شاعری

بھلاؤں لاکھ میں آتا ہے لیکن یاد رہ رہ کر (ردیف .. ے)

بھلاؤں لاکھ میں آتا ہے لیکن یاد رہ رہ کر وہ آنا موسم گل کا وہ جانا میرا گلشن سے نشاط و عیش حاصل تھا چمن کے رہنے والے تھے یہ کیا معلوم تھا نسبت قفس کو بھی ہے گلشن سے عذاب جاں قفس کی تنگیاں پھر اس پہ یہ طرہ ہواؤں پر ہوائیں آ رہی ہیں صحن گلشن سے یہی تو حاصل ہستی ہے تم پر مٹنے والے ...

مزید پڑھیے

ہے تعجب آج تک بھی عشق کیوں رسوا نہیں

ہے تعجب آج تک بھی عشق کیوں رسوا نہیں درد بے آواز سا ہے غم کا بھی سایہ نہیں جو ہوا انجام دیوانے کا وہ ہوتا نہیں وہ سمجھ جاتا مگر کچھ ہم نے سمجھایا نہیں میرے کمرے کی بھی دیواروں سے یہ پوچھے کوئی کوئی کیا جانے کہ میں کیوں رات بھر سویا نہیں میں کہیں جاؤں میرے ہم رہ اس کی یاد ہے تم ...

مزید پڑھیے

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا

پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا وقت سحر اٹھا میں دعا مانگتا ہوا ہر ہر نفس میں لفظ محبت زباں پہ ہے مجھ میں نہ جانے کون ہے یہ بولتا ہوا پایا نہیں کسی نے بھی یہ راز کائنات ایک شخص کھو گیا ہے خدا ڈھونڈھتا ہوا اس سے چھپا نہ پائے گا تو اپنا حال دل آنکھوں کا آئینہ ہے ابھی بولتا ...

مزید پڑھیے

حسیں ہیں کس قدر منظر میں خود کو بھول جاتا ہوں

حسیں ہیں کس قدر منظر میں خود کو بھول جاتا ہوں تمہارے شہر میں آ کر میں خود کو بھول جاتا ہوں نہیں رہتا ذرا بھی ہوش مجھ کو آنے جانے کا تمہارے پاس میں آ کر میں خود کو بھول جاتا ہوں میں کیا ہوں کون ہوں رہتی نہیں کچھ بھی خبر مجھ کو تمہاری یاد میں اکثر میں خود کو بھول جاتا ہوں مرا سونا ...

مزید پڑھیے

اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے

اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے جینے میں کیا رکھا ہے مجھے مار دیجیے دل کے مرض کا اب نہیں دنیا میں کچھ علاج یہ عشق لا دوا ہے مجھے مار دیجیے میں بے گناہ ہوں تو یہی ہے مری سزا یہ فیصلہ ہوا ہے مجھے مار دیجیے ڈرتا ہوں آئنے کو لگانے سے ہاتھ میں کہتا یہ آئینہ ہے مجھے مار دیجیے میں ...

مزید پڑھیے

ہماری عقل پر تالے پڑے ہیں

ہماری عقل پر تالے پڑے ہیں کھنڈر ہے ذہن اور جالے پڑے ہیں بظاہر صاف آتے ہیں نظر دل مگر اندر سے یہ کالے پڑے ہیں کبھی دیکھو پلٹ کر آستیں کو کئی ہی سانپ ہم پالے پڑے ہیں میسر کیسے ہو دو وقت روٹی کہ جب اک وقت کے لالے پڑے ہیں کریں خود ہی خزاؤں کے حوالے چمن کے ایسے رکھوالے پڑے ہیں بہت ...

مزید پڑھیے

قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو

قبول کاش مری اتنی سی گزارش ہو کسی کے قلب میں نفرت ہو اور نہ رنجش ہو کھلیں گے پھول یقیناً خزاں میں چاہت کے جو شاخ دل پہ صنم آپ کی نوازش ہو دھواں سا اٹھتا ہو جس کے ملول چہرے سے تو پھر ضروری ہے دل بھی شکار آتش ہو ہوئے ہیں غیر ترے اپنے کیوں کبھی سوچا ترے خلاف یہ اپنوں کی ہی نہ سازش ...

مزید پڑھیے

نئے ہر روز ہوتے حادثے اچھے نہیں لگتے

نئے ہر روز ہوتے حادثے اچھے نہیں لگتے بہت حالات بھی سہمے ہوئے اچھے نہیں لگتے محافظ ہے ترا دامن بہت ہی خون میں آلود مگر یہ داغ دامن پر ترے اچھے نہیں لگتے فقط امن و اماں کی بات ہو تو اچھا لگتا ہے دلوں میں خوف دہشت وسوسے اچھے نہیں لگتے قدم پچھلا اٹھائے گا تبھی آگے بڑھے گا تو شکستہ ...

مزید پڑھیے

نیند ہے اور نہ خواب آنکھوں میں

نیند ہے اور نہ خواب آنکھوں میں اترا کیسا عذاب آنکھوں میں دل میں ویرانیاں بسیں جب سے ہیں کھٹکتے گلاب آنکھوں میں میرے اشکوں نے عمر بھر لکھی ایک غم کی کتاب آنکھوں میں خون بھی دیکھنے سے ڈرتی ہیں اب نہیں اور تاب آنکھوں میں سہہ نہ پاؤ گے جھانک کر دیکھو میرا ڈھلتا شباب آنکھوں ...

مزید پڑھیے

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے ہر ایک فرد گلوں میں گلاب جیسا ہے چراغ سب نے جلائے ہیں امن کے لیکن اندھیرا وقت کا اک آفتاب جیسا ہے ملیں نہ ہاتھ فقط دل سے دل بھی مل جائیں یہ دیکھنے کو مجھے اضطراب جیسا ہے عجیب خواب کا ہے انتظار آنکھوں کو یہ انتظار بھی شاید کہ خواب جیسا ہے شمار میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4020 سے 4657