شاعری

کرب کیا ہے تجھے بتاتا ہوں

کرب کیا ہے تجھے بتاتا ہوں درد بو کر میں غم اگاتا ہوں ایک دیدار کے لیے ان کی دھول آنکھوں میں ڈال آتا ہوں شعر کہنا بہت ہی مشکل ہے روز دو پاؤ خوں جلاتا ہوں صرف کوزہ گری کا ماہر ہوں صرف مورت تری بناتا ہوں خون نکلے گا تیری آنکھوں سے میں تجھے کربلا سناتا ہوں ہجر کہتا ہے خون پینا ...

مزید پڑھیے

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے

آج مجھ کو بھی مرے احباب دھوکہ دے گئے میں توانا شخص تھا اعصاب دھوکہ دے گئے گاؤں کی کچھ لڑکیاں اپنے گھڑے بھرنے گئیں خشک تھا پانی وہاں تالاب دھوکہ دے گئے جو نظر آتے تھے اکثر ان جبینوں پر تجھے کیا کریں ماتھے کے وہ محراب دھوکہ دے گئے اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا مگر وہ اڑ گئے آج مجھ کو ...

مزید پڑھیے

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سو مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں آل نبی بھی ناز کرے اس کے بخت پر اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں آنسو بہا کے حضرت حر نے یہی کہا عباس با وفا مجھے اوج کمال دیں لکھتا ...

مزید پڑھیے

چھپ کر رویا جا سکتا ہے

چھپ کر رویا جا سکتا ہے دل بہلایا جا سکتا ہے آدم زادے عشق کی رہ میں کام بھی آیا جا سکتا ہے دن کو گرہن لگ سکتا ہے دھوپ میں سایہ جا سکتا ہے عزت ملنا مشکل ہے پر نام کمایا جا سکتا ہے نمک حرامی مادہ ہے جو خون میں پایا جا سکتا ہے آنسو پانی ہے پر اس سے شہر جلایا جا سکتا ہے غربت میں گر ...

مزید پڑھیے

کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات

کی جائے چھپ کے ایسی یہاں غائبانہ بات سرحد کے پار پہنچے نہ یہ کافرانہ بات محفل یہاں سجی ہے مگر تو نہیں یہاں تیری بھی کاش ہوتی کوئی معجزانہ بات اس کو کوئی شغف ہی کہاں شاعری سے ہے محفل میں کیسے کرتے رہے شاعرانہ بات دیکھو تو ایک عام سا کم فہم سا وہ ہے دہرا رہا ہے آج بھی اس کی زمانہ ...

مزید پڑھیے

لطف آیا ہے جاں فشانی میں

لطف آیا ہے جاں فشانی میں ہجر کاٹا ہے زندگانی میں سر جھکائے ادب سے آتی ہے موت موسم کی راجدھانی ہے کیسے خوش میں دکھائی دیتا نا ذکر میرا بھی تھا کہانی میں ایک بیٹا ملا تھا منت سے مر گیا تھا وہی جوانی میں رنگ بدلا ہوا ہے آج اس کا زہر لگتا ہے یار پانی میں طے کروں گا سبھی منازل ...

مزید پڑھیے

سنیے حضور مجھ کو نہیں سادگی پسند

سنیے حضور مجھ کو نہیں سادگی پسند کچھ کچھ فسوں کے ساتھ ہے کچھ خامشی پسند رہتے ہیں سانپ بن کے مری آستیں میں جو ان دوستوں کی مجھ کو نہیں دوستی پسند ورثے میں یہ ملی تھی مجھے مہرباں مرے اس واسطے مجھے ہے بہت تیرگی پسند مجھ سے ملا تھا خواب کے عالم میں اور کہا میں بے سکوں تھا اس لیے کی ...

مزید پڑھیے

ہم تو کربل کو ہی بس دار بقا کہتے ہیں

ہم تو کربل کو ہی بس دار بقا کہتے ہیں اس کی مٹی کو سنو خاک شفا کہتے ہیں یہ تو بس مجھ سے ہی ہو جاتی ہے غفلت اکثر جو بھی کہتے ہیں بڑے میرے بجا کہتے ہیں پھینکی لکڑی تو کبھی رستہ کبھی سانپ بنا اس کو لکڑی نہیں موسیٰ کا عصا کہتے ہیں میں سزا لفظ کی تعریف بتاتا ہوں سنو منتظر ہونے کو بھی ...

مزید پڑھیے

اب زندگی سے جان چھڑانے لگا ہوں میں

اب زندگی سے جان چھڑانے لگا ہوں میں دشت اجل سے آنکھ ملانے لگانے ہوں میں جبر و جفا کچھ اس طرح سونپے گئے مجھے دیکھو یہ شہر چھوڑ کے جانے لگا ہوں میں میں چاہتا ہوں آتی رہیں تتلیاں یہاں کاغذ پہ تیرے ہونٹ بنانے لگا ہوں میں جو چاہتے ہیں جانا بصد شوق جائیں وہ سارے یہ اب چراغ بجھانے لگا ...

مزید پڑھیے

جن کے تری نظر میں پرستار لوگ ہیں

جن کے تری نظر میں پرستار لوگ ہیں میرے لیے وہ شہر کے بے کار لوگ ہیں آنکھوں کا سرخ رنگ نشانی ہے میرے دوست دیکھو قریب آ کے وفادار لوگ ہیں الزام دے رہے ہو بے سبب میاں حالانکہ وہ تو صاحب کردار لوگ ہیں اب نہ خدارا سونپنا ہم کو محبتیں ہم اپنے ہی وجود سے بیزار لوگ ہیں انور کبیر صفدر و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4008 سے 4657