شاعری

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے

تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے نظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے اپنے لہو کا رنگ ملا ہے بہار میں لالہ مثال شعلۂ رقصاں ہمیں سے ہے جلتا ہے اپنا خوں ہی سر بزم رات بھر اے حسن بے خبر یہ چراغاں ہمیں سے ہے ہم آج شہر یار کے معتوب ہیں تو کیا ہر دم وہ اپنے شہر میں ترساں ہمیں سے ہے رکھی ...

مزید پڑھیے

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے خامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھا داستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے انتہائے یاس میں چلتے رہے بے مدعا دیکھنے والے ہمیں ثابت قدم کہتے رہے دل فریب زندگی میں بے طرح الجھا رہا عشق کو آزاد پتھر کو صنم کہتے رہے کم ...

مزید پڑھیے

بس ایک ہی کیفیت دل صبح مسا ہے

بس ایک ہی کیفیت دل صبح مسا ہے ہر لمحہ مری عمر کا زنجیر بہ پا ہے میں شہر کو کہتا ہوں بیاباں کہ یہاں بھی سایہ تری دیوار کا کب سر پہ پڑا ہے ہے وقت کہ کہتا ہے رکوں گا نہ میں اک پل تو ہے کہ ابھی بات مری تول رہا ہے میں بزم سے خاکستر دل لے کے چلا ہوں اور سامنے تنہائی کے صحرا کی ہوا ...

مزید پڑھیے

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے

اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے نگاہ شوق نے بوسے ہر اک ادا کے لئے مہک ہے تیرے شبستاں کی بوئے زلف صبا چلی ہے باد صبا اک شکستہ پا کے لئے سنو کہ دل کو مرے اعتبار زیست نہیں رکا ہوں ایک نفس عرض مدعا کے لئے مرے خیال نے پہنا لباس حرف و ندا صریر خامہ ہے رقصاں مری نوا کے لئے دیار دل تو ...

مزید پڑھیے

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی جاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتا کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاک ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نے نمناک نگاہوں میں حیا سہمی ...

مزید پڑھیے

ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں

ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں راز انداز تکلم سے عیاں دیکھتے ہیں جان لیوا ہے فریب رہ گلزار طلب نشتر شوق قریب رگ جاں دیکھتے ہیں ہے اسی گھر میں کہیں گوہر امید نہاں سوئے ویرانۂ دل بہر اماں دیکھتے ہیں کیسے بنتا ہے لہو سرخی افسانۂ دل کیسے بنتا ہے قلم نوک سناں دیکھتے ہیں آتش ...

مزید پڑھیے

جینا ہے ایک شغل سو کرتے رہے ہیں ہم

جینا ہے ایک شغل سو کرتے رہے ہیں ہم ہے زندگی گواہ کہ مرتے رہے ہیں ہم سہتے رہے ہیں ظلم ہم اہل زمین کے الزام آسمان پہ دھرتے رہے ہیں ہم ملتے رہے ہیں راز ہمیں اہل زہد کے ناز اپنے شغل جام پہ کرتے رہے ہیں ہم احباب کی نگاہ پہ چڑھتے رہے مگر اغیار کے دلوں میں اترتے رہے ہیں ہم جیسے کہ ان ...

مزید پڑھیے

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے یوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاری مٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میں خلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابط اپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ...

مزید پڑھیے

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت

حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت ترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجا ہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت جو تیری طرز جفا سے ہمارا حال ہوا زباں پہ لائیں یہ اس میں قباحتیں ہیں بہت اگر ہے باعث وحشت تجھے ہمارا جنوں ہمیں بھی تیری ادا سے شکایتیں ...

مزید پڑھیے

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں بس ایک نفس عرض تمنا کو رکا ہوں رہتا ہوں بگولوں کی طرح رقص میں بے تاب اے ہم نفسو میں دل صحرا سے اٹھا ہوں قطرہ ہوں میں دریا میں مجھے کچھ نہیں معلوم ہمراہ مرے کون ہے میں کس سے جدا ہوں اک لمحہ ٹھہر مجھ کو بھی ہمراہ لیے چل اے لیلیٰ ہستی ترا نقش کف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4009 سے 4657