تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے
تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے نظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے اپنے لہو کا رنگ ملا ہے بہار میں لالہ مثال شعلۂ رقصاں ہمیں سے ہے جلتا ہے اپنا خوں ہی سر بزم رات بھر اے حسن بے خبر یہ چراغاں ہمیں سے ہے ہم آج شہر یار کے معتوب ہیں تو کیا ہر دم وہ اپنے شہر میں ترساں ہمیں سے ہے رکھی ...