اب کے تو گلستاں میں وہ دور بہار آیا
اب کے تو گلستاں میں وہ دور بہار آیا پھولوں پہ اداسی ہے کانٹوں پہ نکھار آیا وہ اپنے مقدر پہ روتا ہی رہا برسوں اوروں کا مقدر جو پل بھر میں سنوار آیا کیا چال چلی تو نے کیا جال بچھایا ہے صیاد مبارک ہو گھر بیٹھے شکار آیا جس جیت کی خاطر میں بیدار رہا اب تک اک لمحہ کی غفلت میں وہ جیت ...