شاعری

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے

دل عشق کی مے سے چھلک رہا ہے اک پھول ہے جو مہک رہا ہے آنکھیں کب کی برس چکی ہیں کوندا اب تک لپک رہا ہے اب آئے بہار یا نہ آئے آنکھوں سے لہو ٹپک رہا ہے ہے دور بہت زمان وعدہ اور دل ابھی سے دھڑک رہا ہے کس نے وحشی اثرؔ کو چھیڑا دیوار سے سر پٹک رہا ہے

مزید پڑھیے

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں یہ دھوکا تھا کہ تو ہے اور میں ہوں مقام بے نیازی آ گیا ہے وہ جان آرزو ہے اور میں ہوں فریب شوق سے اکثر یہ سمجھا کہ وہ بیگانہ خو ہے اور میں ہوں کبھی سودا تھا تیری جستجو کا اب اپنی جستجو ہے اور میں ہوں کبھی دیکھا تھا اک خواب محبت اب اس کی آرزو ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

جب تک وہ شعلہ رو مرے پیش نظر نہ تھا

جب تک وہ شعلہ رو مرے پیش نظر نہ تھا میں آشنائے لذت سوز جگر نہ تھا اعزاز رنگ و بو سے نوازا گیا اسے جس گل کے سر پہ سایۂ شاخ شجر نہ تھا افسوس آپ سے نہ ہوا عزم التفات ورنہ مرا پہاڑ کی چوٹی پہ گھر نہ تھا جو آسماں کی جھیل میں چمکا تمام رات وہ تیرا عکس نقش قدم تھا قمر نہ تھا شبنم سے تر ...

مزید پڑھیے

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں کہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں کروں میں خون تمنا کا کس لیے ماتم مرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوں اگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں مجھے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا اسی لیے ترے ملنے کی کچھ خوشی ...

مزید پڑھیے

جو بزم دہر میں کل تک تھے خود سروں کی طرح

جو بزم دہر میں کل تک تھے خود سروں کی طرح بکھر گئے ہیں وہ ٹوٹے ہوئے پروں کی طرح شکستہ روح ہے جسموں کے گنبدوں میں اسیر ہیں میرے دور کے انسان مقبروں کی طرح ڈرو تم ان سے کہ وہ راز دار طوفاں ہیں جو ایک عمر سے چپ ہیں سمندروں کی طرح پڑا جو وقت تو وہ پھر نظر نہیں آئے یقیں کریں کہ جو ملتے ...

مزید پڑھیے

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی جیسے اہل شہر سے میری شناسائی نہ تھی مجھ کو اک چپ چاپ سے چہرے نے زخمی کر دیا میں نے ایسی چوٹ ساری زندگی کھائی نہ تھی غور سے دیکھیں تو ہے یادوں کے رنگوں کا کمال اس قدر دل کش کبھی تصویر تنہائی نہ تھی کر دیا جس نے مجھے پھر زندگی سے ہمکنار تھا ...

مزید پڑھیے

خیال یار مجھے جب لہو رلانے لگا

خیال یار مجھے جب لہو رلانے لگا تو زخم زخم مرے دل کا مسکرانے لگا مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں میں کیوں تمہاری محبت کو آزمانے لگا کیا ہے یاد مجھے میرے بعد دنیا نے ہوا جو غرق تو ساحل قریب آنے لگا نہ چھین مجھ سے سرور شب فراق نہ چھین قرار دل کو نہ دستک کے تازیانے لگا مثال ...

مزید پڑھیے

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں چند قطروں سے تو بحر بیکراں بنتا نہیں چار چھ پھولوں سے اپنے گھر کا گلدستہ سجا چار چھ پھولوں سے ہرگز گلستاں بنتا نہیں کارواں کا پاس ہے تجھ کو تو پانی پر نہ چل یہ وہ جادہ ہے جہاں کوئی نشاں بنتا نہیں بے سر و ساماں پرندو کاش تم یہ سوچتے کون سی ...

مزید پڑھیے

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا کوئی سمجھ نہ سکا مقصد سفر میرا سکون روح ملا حلقۂ رسن میں مجھے وگرنہ بار گراں تھا بدن پہ سر میرا میں اپنے ہاتھ کے چھالے دکھاتا پھرتا ہوں دلائے کوئی مجھے حصۂ ثمر میرا ہر اک شجر ہے مرا یوں تو سارے جنگل میں عجب ستم ہے نہیں سایۂ شجر میرا کہو یہ ابر سے ...

مزید پڑھیے

مانگنے سے قضا نہیں ملتی

مانگنے سے قضا نہیں ملتی چاہنے سے وفا نہیں ملتی روگ یہ لا علاج ہے یارو درد دل کی دوا نہیں ملتی جانے قانون کھو گیا ہے کہاں مجرموں کو سزا نہیں ملتی غیر کی بد دعا تو ملتی ہے دوستوں کی وفا نہیں ملتی بات دل کی کسے سنائے ارونؔ اب کوئی دل ربا نہیں ملتی

مزید پڑھیے
صفحہ 3991 سے 4657