غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے
غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے مگر یہ حرف بغاوت لہو جو بولتا ہے مرے اجڑنے کی تکمیل کب ہوئی جاناں درخت یاد کی ٹہنی پہ تو جو بولتا ہے سر سکوت عدم کس کے ہونٹ ہلتے ہیں کوئی تو ہے پس دیوار ہو جو بولتا ہے زمانے تیری حقیقت سمجھ میں آتی ہے ہوا کی تھاپ سے خالی سبو جو بولتا ہے نفاستوں ...