شاعری

غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے

غلط نہیں ہے دل صلح خو جو بولتا ہے مگر یہ حرف بغاوت لہو جو بولتا ہے مرے اجڑنے کی تکمیل کب ہوئی جاناں درخت یاد کی ٹہنی پہ تو جو بولتا ہے سر سکوت عدم کس کے ہونٹ ہلتے ہیں کوئی تو ہے پس دیوار ہو جو بولتا ہے زمانے تیری حقیقت سمجھ میں آتی ہے ہوا کی تھاپ سے خالی سبو جو بولتا ہے نفاستوں ...

مزید پڑھیے

وحشی عشق جنوں کم بھی نہیں کرتا ہے

وحشی عشق جنوں کم بھی نہیں کرتا ہے اور یوں بھی ہے کہ اب رم بھی نہیں کرتا ہے توڑ بھی لیتا ہے وہ ربط عنایت ہم سے رشتۂ درد کو محکم بھی نہیں کرتا ہے اس کا شکوہ نہیں کر سکتے کہ وہ دل کے تئیں خوش نہیں کرتا تو برہم بھی نہیں کرتا ہے مجھے دیوار انا سے وہ گراتا بھی نہیں اور اونچا مرا پرچم ...

مزید پڑھیے

اپنے اندر کا کچھ ابال نکال

اپنے اندر کا کچھ ابال نکال اے سخنور نیا خیال نکال لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں چھوڑ کاغذ قلم کدال نکال تو بہت وقت لے چکا ہے مرا اب مرے روز و ماہ و سال نکال یا مری بات کا جواب بنا یا مرے ذہن سے سوال نکال دیکھتا ہوں میں تیری شیشہ گری چل ذرا آئنے سے بال نکال جوڑ آئندہ کو گزشتہ سے اور ...

مزید پڑھیے

روح میں تازگی نہیں قلب میں روشنی نہیں

روح میں تازگی نہیں قلب میں روشنی نہیں تیری قسم ترے بغیر زندگی زندگی نہیں تذکرۂ خدا نہیں سلسلۂ خودی نہیں اب میں وہاں ہوں جس جگہ میرے سوا کوئی نہیں سجدۂ دوست کے لئے چاہئے جذب بے خودی بندگی اور بہ قید ہوش کفر ہے بندگی نہیں سست قدم تھے مہر و ماہ رہ گئے مثل گرد راہ منزل عشق میں ...

مزید پڑھیے

عشق آئینۂ حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں

عشق آئینۂ حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں میری صورت تری صورت کے سوا کچھ بھی نہیں حسن کہتے ہیں جسے عشق و محبت والے جوہر چشم بصیرت کے سوا کچھ بھی نہیں دولت قرب ہو یا نعمت عرفان جمال صرف اک اشک ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہجر ہو وصل ہو اے دوست عدم ہو کہ وجود اک تری چشم عنایت کے سوا کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

کیا قیامت کا ہے بازار ترے کوچے میں

کیا قیامت کا ہے بازار ترے کوچے میں بکنے آتے ہیں خریدار ترے کوچے میں تو وہ عیسیٰ ہے کہ اے نبض شناس کونین ابن مریم بھی ہے بیمار ترے کوچے میں اذن دیدار تو ہے عام مگر کیا کہیے چشم بینا بھی ہے بے کار ترے کوچے میں جس نے دیکھا ہو نظر بھر کے ترا حسن تمام کوئی ایسا بھی ہے اے یار ترے کوچے ...

مزید پڑھیے

ہوش نہیں ہے دوش کا جلوہ گہہ نماز میں

ہوش نہیں ہے دوش کا جلوہ گہہ نماز میں سر ہی کا کچھ پتہ نہیں سجدۂ بے نیاز میں صبح ازل بھی بے نقاب جس کی نگاہ ناز میں ہائے وہ صورت جمیل بت کدۂ مجاز میں عشق کی زندگی کا راز گم ہے شکست ساز میں عشرت روح ڈھونڈئیے شورش جاں گداز میں جز دل عشق معتبر اور کو اس کی کیا خبر عالم رنگ رنگ ہے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ راہ طلب میں کدھر سے گزرا ہوں

نہ پوچھ راہ طلب میں کدھر سے گزرا ہوں ترے ہی پاس سے گزرا جدھر سے گزرا ہوں خدا گواہ کہ دل میں خلوص غم لے کر بہ احترام شب بے سحر سے گزرا ہوں تری نظر کو بھی اب تک خبر نہیں اے دوست اس احتیاط سے تیری نظر سے گزرا ہوں ترے خیال کو بھی ٹھیس لگ نہ جائے کہیں بہت سنبھل کے غم معتبر سے گزرا ...

مزید پڑھیے

شراب و شیشہ و ساغر سبو و پیمانہ

شراب و شیشہ و ساغر سبو و پیمانہ فدائے نیم نگاہی تمام مے خانہ قدم قدم پہ مشیت نے پاؤں چومے ہیں یہ کس مقام سے گزرا ہے تیرا دیوانہ کبھی کبھی تو حرم کیا ہے بت کدہ کیا ہے میں تیرے در سے بھی گزرا ہوں بے نیازانہ اسی کے دم سے ہے روشن حریم کعبۂ دل خدا کرے کہ نہ گل ہو چراغ بت خانہ جمال ...

مزید پڑھیے

مزے کے ساتھ گزرا ہوں محبت کی منازل سے (ردیف .. ا)

مزے کے ساتھ گزرا ہوں محبت کی منازل سے کبھی اپنا مقام آیا کبھی ان کا مقام آیا وہ لمحہ بھی کسی کی انجمن میں کیا قیامت تھا نگاہوں کی زباں میں دل کو جب دل کا پیام آیا یکایک اور دل کی دھڑکنوں کا تیز ہو جانا سنبھل اے عشق پھر شاید کوئی نازک مقام آیا شگفت دل ہی کے دم تک تھی رنگ و بو کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3966 سے 4657