شاعری

ازل کے دن جنہیں دیکھا تھا بزم حسن پنہاں میں

ازل کے دن جنہیں دیکھا تھا بزم حسن پنہاں میں سمٹ آئیں وہی رعنائیاں تصویر جاناں میں مرا ذوق نظر اب اس مقام عاشقی پر ہے جہاں الجھا ہوا ہے حسن بھی خواب پریشاں میں بڑھا دے کاش کوئی وسعتیں انوار معنی کی مجھے ترمیم کرنا ہے مذاق چشم حیراں میں ابھی گنجائشیں دیکھی کہاں ہیں اہل عالم ...

مزید پڑھیے

عشق مجبور فغاں اے دل ناشاد نہیں

عشق مجبور فغاں اے دل ناشاد نہیں یہ تو اک حسن کی تائید ہے فریاد نہیں لذت بے خودیٔ دید کی روداد نہ پوچھ اک فسانہ ہے جو کچھ یاد ہے کچھ یاد نہیں ایک پابند وفا ایک جفا کا پابند عشق مجبور سہی حسن بھی آزاد نہیں حسن معنی کی تماشائی ہیں نظریں میری پڑھ رہا ہوں وہ صحیفے جو مجھے یاد ...

مزید پڑھیے

یک بیک دل سے ترا جلوہ نما ہو جانا

یک بیک دل سے ترا جلوہ نما ہو جانا وہ مرا حسن کے شعلوں میں فنا ہو جانا دیکھ دل کو مرے تو نے نہ اگر دیکھا ہو ٹوٹ کر ساز کا محروم صدا ہو جانا الاماں کی رسن و دار سے آتی ہے صدا کوئی آساں ہے گنہ گار وفا ہو جانا مجھ سے ترک گنہ عشق کا تو عہد نہ لے کہ میں انسان ہوں ممکن ہے خطا ہو جانا لذت ...

مزید پڑھیے

خدا جانے زباں پر آج کس کافر کا نام آیا

خدا جانے زباں پر آج کس کافر کا نام آیا محبت جھوم جھوم اٹھی مشیت کا سلام آیا ادب اے آرزوئے شوق وقت احترام آیا جنوں کی منزلیں طے ہو چکیں دل کا مقام آیا طریق عشق میں اکثر اک ایسا بھی مقام آیا قدم اٹھنے نہیں پائے کہ منزل کا سلام آیا مزے کے ساتھ گزرا ہوں محبت کی منازل سے کبھی اپنا ...

مزید پڑھیے

خودی کی فطرت زریں کے راز ہائے دروں

خودی کی فطرت زریں کے راز ہائے دروں ادا شناس حقیقت ملے کوئی تو کہوں خودی اگر ہے تو ہیں سرخ رو حیات و ممات خودی نہیں تو حیات و ممات خوار و زبوں خودی وہ چیز ہے ناداں کہ جس کے بدلے میں ملے جو دولت کونین بھی مجھے تو نہ لوں علامتیں ہیں یہ سب ایک مرد کامل کی خلوص روح و یقین تمام و سوز ...

مزید پڑھیے

کس قیامت کا ہے بازار ترے کوچے میں

کس قیامت کا ہے بازار ترے کوچے میں بکنے آتے ہیں خریدار ترے کوچے میں تو وہ عیسیٰ ہے کہ اے نبض شناس کونین ابن مریم بھی ہے بیمار ترے کوچے میں اذن دیدار تو ہے عام مگر کیا کہیے چشم بینا بھی ہے بے کار ترے کوچے میں جس نے دیکھا ہو نظر بھر کے ترا حسن تمام کوئی ایسا بھی ہے اے یار ترے کوچے ...

مزید پڑھیے

پردۂ حسن ذات میں انجمن صفات میں

پردۂ حسن ذات میں انجمن صفات میں میرے سوا ہے اور کون سینۂ کائنات میں فرش کی وسعتیں بھی گم عرش کی رفعتیں بھی جذب میرے تخیلات میں میرے تصورات میں نغمۂ بے صدا ہوں میں ناز گرہ کشا ہوں میں شمع رہ ہدیٰ ہوں میں ظلمت شش جہات میں میری ہی فطرت قدیم سرحد لا مکاں سے دور میرا ہی نقش نا ...

مزید پڑھیے

عشق کو جب حسن سے نظریں ملانا آ گیا

عشق کو جب حسن سے نظریں ملانا آ گیا خودبخود گھبرا کے قدموں میں زمانہ آ گیا جب خیال یار دل میں والہانہ آ گیا لوٹ کر گزرا ہوا کافر زمانہ آ گیا خشک آنکھیں پھیکی پھیکی سی ہنسی نظروں میں یاس کوئی دیکھے اب مجھے آنسو بہانا آ گیا غنچہ و گل ماہ و انجم سب کے سب بیکار تھے آپ کیا آئے کہ پھر ...

مزید پڑھیے

جب ذرا رات ہوئی اور مہ و انجم آئے

جب ذرا رات ہوئی اور مہ و انجم آئے بارہا دل نے یہ محسوس کیا تم آئے ایسے اقرار میں انکار کے سو پہلو ہیں وہ تو کہیے کہ لبوں پہ نہ تبسم آئے نہ وہ آواز میں رس ہے نہ وہ لہجے میں کھنک کیسے کلیوں کو ترا طرز تکلم آئے بارہا یہ بھی ہوا انجمن ناز سے ہم صورت موج اٹھے مثل تلاطم آئے اے مرے وعدہ ...

مزید پڑھیے

لب و رخسار کی قسمت سے دوری

لب و رخسار کی قسمت سے دوری رہے گی زندگی کب تک ادھوری بہت تڑپا رہے ہیں دو دلوں کو کئی نازک تقاضے لا شعوری کئی راتوں سے ہے آغوش سونا کئی راتوں کی نیندیں ہیں ادھوری خدا سمجھے جنون جستجو کو سر منزل بھی ہے منزل سے دوری عجب انداز کے شام و سحر ہیں کوئی تصویر ہو جیسے ادھوری خدا کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3967 سے 4657