ازل کے دن جنہیں دیکھا تھا بزم حسن پنہاں میں
ازل کے دن جنہیں دیکھا تھا بزم حسن پنہاں میں سمٹ آئیں وہی رعنائیاں تصویر جاناں میں مرا ذوق نظر اب اس مقام عاشقی پر ہے جہاں الجھا ہوا ہے حسن بھی خواب پریشاں میں بڑھا دے کاش کوئی وسعتیں انوار معنی کی مجھے ترمیم کرنا ہے مذاق چشم حیراں میں ابھی گنجائشیں دیکھی کہاں ہیں اہل عالم ...