اسے تیرے غم کی خبر نہ ہو تو ہر ایک غم کو چھپائے رکھ
اسے تیرے غم کی خبر نہ ہو تو ہر ایک غم کو چھپائے رکھ وہ ہری رتوں کا گلاب ہے اسے دھوپ رت سے بچائے رکھ وہ جو ایک بار چلا گیا تو کبھی پلٹ کے نہ آئے گا اسے روٹھ جانے سے روک لے یہ دلوں کا ربط بنائے رکھ یہی چاہتوں کا اصول ہے کہ ہتھیلیوں پہ لہو سجا اسے یاد رکھنے کی آرزو ہے تو اپنے دل کو ...