شاعری

انکشاف ذات کے آگے دھواں ہے اور بس

انکشاف ذات کے آگے دھواں ہے اور بس ایک تو ہے ایک میں ہوں آسماں ہے اور بس آئینہ خانوں میں رقصندہ رموز آگہی اوس میں بھیگا ہوا میرا گماں ہے اور بس کینوس پر ہے یہ کس کا پیکر حرف و صدا اک نمود آرزو جو بے نشاں ہے اور بس حیرتوں کی سب سے پہلی صف میں خود میں بھی تو ہوں جانے کیوں ہر ایک منظر ...

مزید پڑھیے

یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں

یہاں تو ہر گھڑی کوہ ندا کی زد میں رہتے ہیں تجاوز کے بھی موسم میں ہم اپنی حد میں رہتے ہیں بہت محتاط ہو کر سانس لینا معتبر ہو تم ہمارا کیا ہے ہم تو خود ہی اپنی رد میں رہتے ہیں سراب و آب کی یہ کشمکش بھی ختم ہی سمجھو چلو موج صدا بن کر کسی گنبد میں رہتے ہیں سروں کے بوجھ کو شانوں پہ ...

مزید پڑھیے

تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا

تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا رہین منت لیل و نہار ہونا تھا جو مبتلائے غم روزگار ہونا تھا تو دل پہ اپنے ذرا اختیار ہونا تھا فراق گل میں اگر دل فگار ہونا تھا تو ہر کلی کو مرا غم گسار ہونا تھا جو مجھ کو وقف غم انتظار ہونا تھا تو عہد و فعل کا کچھ اعتبار ہونا تھا تمہیں تو جلوہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ ناز سے راز و نیاز رہنے دے

نگاہ ناز سے راز و نیاز رہنے دے تبسم نگہ دل‌ نواز رہنے دے غم فراق سے دل کو گداز رہنے دے جہان عشق میں کچھ سوز و ساز رہنے دے فریب خوردۂ حسن مجاز رہنے دے اسی طرح سے حقیقت کو راز رہنے دے اٹھا نہ چہرۂ ہستی سے تو نقاب اپنی نگاہ و دل کو یوں ہی مشق ناز رہنے دے اگر یہ اصل حقیقت کے دونوں ...

مزید پڑھیے

دل سے جوش شباب جاتا ہے

دل سے جوش شباب جاتا ہے زیست سے اضطراب جاتا ہے رخ پہ ڈالے نقاب جاتا ہے ابر میں ماہتاب جاتا ہے جانے کو تو شباب جاتا ہے کر کے مٹی خراب جاتا ہے اپنا عہد شباب جاتا ہے سر سے سارا عذاب جاتا ہے رخ روشن پہ آئی ہیں زلفیں ثور میں آفتاب جاتا ہے دیکھیں گرتی ہیں بجلیاں کس پر رخ سے سرکا نقاب ...

مزید پڑھیے

تردد میں ہیں سب کعبوں کا بت خانوں کا کیا ہوگا

تردد میں ہیں سب کعبوں کا بت خانوں کا کیا ہوگا مجھے یہ فکر ہے گمراہ انسانوں کا کیا ہوگا بہار آتے ہی پہلی بات یہ کہتے ہیں دیوانے چمن آراستہ ہے ہائے ویرانوں کا کیا ہوگا حقیقت پھر حقیقت ہے سمجھ لو سوچ لو تم بھی زباں کھولیں گے ہم جس وقت افسانوں کا کیا ہوگا غریبوں کو جگہ ملتی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

آئی بہاریں مہکا گلشن

آئی بہاریں مہکا گلشن کلیاں چٹکیں مرجھایا من من ہی من میں یاد کے جھولے آنکھوں آنکھوں برسے ساون ہر تارا ہے اک چنگاری رات اندھیری کالی ناگن ہر دستوں میں ان کی مورت ذرہ ذرہ جیسے درپن دل میں بسیں آنکھوں میں براجیں گھر ہے جس کا اس کا آنگن جتنی پگ سے دور ہے دھرتی اتنے من کے پاس ہیں ...

مزید پڑھیے

پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے

پردے مری نگاہ کے بھی درمیاں نہ تھے کیا کہیے ان کے جلوے کہاں تھے کہاں نہ تھے جس راستے سے لے گئی تھی مجھ کو بے خودی اس راہ میں کسی کے قدم کے نشاں نہ تھے راز آشنا ہے میری نظر یا پھر آئنہ ورنہ وہ اپنے حسن کے خود رازداں نہ تھے کچھ بے صدا سے لفظ نظر کہہ گئی ضرور مانا لب خموش رہین بیاں ...

مزید پڑھیے

نہیں شعور نظر کسی میں

نہیں شعور نظر کسی میں ہزاروں غم ہیں مری ہنسی میں نہیں ہے معیار کوئی باقی نہ دشمنی میں نہ دوستی میں نہ چھیڑ ان کو اے جذبۂ دل وہ رو پڑیں گے ہنسی ہنسی میں پیمبر تیرگی بھی اک دن ضرور آئیں گے روشنی میں ذرا کوئی راہبر سے کہہ دے کہ راز منزل ہے گمرہی میں مذاق محفل گرا ہوا ہے نہ ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

بات ہے آپ کی غضب کی بات

بات ہے آپ کی غضب کی بات کاش فرماتے کوئی ڈھب کی بات مختلف ہے زبان دشمن و دوست ایک ہوتی نہیں ہے سب کی بات جھنجھنا اٹھے ساز دل سب کے الاماں تیرے زیر لب کی بات آشیانہ کہاں کہاں یہ قفس اب کسے یاد ہوگی جب کی بات دل نے آخر نگاہ کو ٹوکا بے ادب کہہ گیا ادب کی بات درد دل پوچھ درد والوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3952 سے 4657