شاعری

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے

ضرور چشم تماشا چمن پہ ناز کرے مگر بہار و خزاں میں تو امتیاز کرے مری حیات کا مقصد ہے صرف لذت غم کوئی یہ سلسلۂ غم ذرا دراز کرے جنوں کے دور میں ہو جس کو شوق گل چینی چمن میں کیسے وہ کانٹوں سے احتراز کرے یہی ہے خالق جذبات کا کرم شاید تمہیں خوشی سے ہمیں غم سے سرفراز کرے نہ کیجئے کسی ...

مزید پڑھیے

دل کی روداد دل لگی نہ سہی

دل کی روداد دل لگی نہ سہی سن تو لیجے کبھی ابھی نہ سہی دیکھ کر مجھ کو پھیر لیں نظریں ان کے چہرے پہ برہمی نہ سہی ان کا جلوہ تو ہر مقام پہ ہے عام فیضان دید ہی نہ سہی میرے ایقان میں کمی کیوں ہے آپ کے لطف میں کمی نہ سہی جبر ہستی ہے ناگزیر اشرفؔ زندگی آج زندگی نہ سہی

مزید پڑھیے

حق نہیں مجھ کو شادمانی کا

حق نہیں مجھ کو شادمانی کا شکریہ غم کی مہربانی کا آپ کے اور ہمارے آنسو میں فرق ہے آگ اور پانی کا ہے محبت کا نام عمر ابد ذکر ہی کیا حیات فانی کا خود مرے دل نے میری آنکھوں کو فرض سونپا ہے خوں فشانی کا اہل دل کی کہانیاں توبہ ایک عنواں ہے ہر کہانی کا کیوں نہ سرگوشیاں ہوں محفل ...

مزید پڑھیے

قہر مجسم حسن مکرم

قہر مجسم حسن مکرم آپ ہی شعلہ آپ ہی شبنم آپ نہ آئے یہ بھی نہ سوچا بزم میں کتنے دل ہوئے پر غم مان بھی لیتے ان کی باتیں لیکن کچھ آواز تھی مدھم آپ یہ آخر کیوں ہیں پشیماں آپ سے کچھ شاکی تو نہیں ہم یوں نہ جتاؤ اپنی بڑائی آپ کی ہستی خود ہے مسلم گونجتی ہیں اب تک کانوں میں باتیں ان کی ...

مزید پڑھیے

میرے اس کے درمیاں یہ فاصلہ اپنی جگہ ہے

میرے اس کے درمیاں یہ فاصلہ اپنی جگہ ہے آہٹوں اور دستکوں کا سلسلہ اپنی جگہ ہے سینۂ آواز میں ہے برف کی تلوار گم بے صدا گنبد کا لیکن مسئلہ اپنی جگہ ہے میں چمکتی ریت کی اٹکھیلیوں کا ہوں اسیر ایڑیوں کا اضطرابی مشغلہ اپنی جگہ ہے خود فریبی کا بھرم ٹوٹا چلو اچھا ہوا اونگھتی بیداریوں ...

مزید پڑھیے

ہم تہ دریا طلسمی بستیاں گنتے رہے

ہم تہ دریا طلسمی بستیاں گنتے رہے اور ساحل پر مچھیرے مچھلیاں گنتے رہے ناتواں شانوں پہ ایسی خامشی کا بوجھ تھا اپنے اس کے درمیاں بھی سیڑھیاں گنتے رہے بزم جاں سے چپکے چپکے خواب سب رخصت ہوئے ہم بھلا کرتے بھی کیا بس گنتیاں گنتے رہے بانس کے جنگل سے ہو کے جب کبھی گزری ہوا اک صدائے گم ...

مزید پڑھیے

شاید مری نگاہ میں کوئی شگاف تھا

شاید مری نگاہ میں کوئی شگاف تھا ورنہ اداس رات کا چہرہ تو صاف تھا اک لاش تیرتی رہی برفیلی جھیل میں جھوٹی تسلیوں کا امیں زیر ناف تھا بوسوں کی راکھ میں تھے سلگتے شرار لمس چہرے کی سلوٹوں میں کوئی انکشاف تھا دوزخ کے گرد گونگے فرشتے تھے محو رقص اور پسلیوں کی ٹیس پہ میلا غلاف ...

مزید پڑھیے

اس سفر میں نیم جاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں

اس سفر میں نیم جاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں اور زیر سائباں میں بھی نہیں تو بھی نہیں زہر میں ڈوبی ہوئی پرچھائیوں کا رقص ہے خود سے وابستہ یہاں میں بھی نہیں تو بھی نہیں ناتمامی کے شرر میں روز و شب جلتے رہے سچ تو یہ ہے بے زباں میں بھی نہیں تو بھی نہیں زرد لفظوں کے دھندلکے شام کی ...

مزید پڑھیے

مسئلہ یہ تو نہیں کہ سن رسیدہ کون تھا

مسئلہ یہ تو نہیں کہ سن رسیدہ کون تھا ہاں مگر محفل میں تیری برگزیدہ کون تھا فیصلہ جس کا بھی تھا تیرا نہیں میرا سہی وقت رخصت سر جھکائے آبدیدہ کون تھا ایک قطرے کی طلب اور تھا سمندر سامنے بزم یاراں میں بھلا وہ بد عقیدہ کون تھا تم بھی تھے سرشار میں بھی غرق بحر رنگ و بو پھر بھلا ...

مزید پڑھیے

تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا

تیرے بدن کی دھوپ سے محروم کب ہوا لیکن یہ استعارہ بھی منظوم کب ہوا واقف کہاں تھے رات کی سرگوشیوں سے ہم بستر کی سلوٹوں سے بھی معلوم کب ہوا شاخ بدن سے سارے پرندے تو اڑ گئے سجدہ ترے خیال کا مقسوم کب ہوا سنسان جنگلوں میں ہے موجودگی کی لو لیکن وہ ایک راستہ معدوم کب ہوا نسبت مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3951 سے 4657