شاعری

تلخیٔ مے سے سر خوشی لیجے

تلخیٔ مے سے سر خوشی لیجے کم سے کم ایک بار پی لیجے شمع کی طرح رو کے جینا کیا پھول کی طرح ہنس کے جی لیجے کچھ تو لیجے بہار ہستی سے نہ سہی پھول پنکھڑی لیجئے عشق کی رفعتیں نہ ہوں رسوا دامن چاک چاک سی لیجے موت اس دور میں نہیں مشکل حوصلہ ہے تو زندگی لیجے شعر میں لوگ کیا نہیں کہتے آپ ...

مزید پڑھیے

عہد وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں

عہد وفا نہ یاد دلائیں تو کیا کریں ہم ان کو حال دل نہ سنائیں تو کیا کریں جن سے نہیں ہے آپ کی منزل کو واسطہ ان راستوں سے لوٹ نہ جائیں تو کیا کریں وہ ہر طرف ہیں سمت کی جب قید ہی نہیں دیر و حرم میں سر نہ جھکائیں تو کیا کریں محکم ہے ربط عشق تو نزدیک و دور کیا آئیں تو کیا کریں وہ نہ آئیں ...

مزید پڑھیے

یہی میراث میں ہیں ملنے والے

یہی میراث میں ہیں ملنے والے یہ خالی گھر ہیں یہ ان کے قبالے ذرا سا خط انہیں لکھنا ہے مشکل بہت سے لکھ دیے ہوں گے مقالے وہ دیوانے وہ پیاسے اب کہاں ہیں گریباں چاک تھے پاؤں میں چھالے لٹا کر دولت دنیا کسی پر کہا مجھ سے “یہ غم ہیں تو اٹھا لے نہیں ہے ہم زباں بچوں میں کوئی کتب خانہ کروں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رخ سے مجھے لطف جستجو آئے

ہر ایک رخ سے مجھے لطف جستجو آئے ذرا وہ اور قریب رگ گلو آئے مآل ناز خودی کیا ہے یہ تو سمجھا دوں جسے ہو ناز خودی میرے روبرو آئے بغیر اذن ہی ساقی نے کر لیا قبضہ ہمارے واسطے جب ساغر و سبو آئے قدم قدم پہ ہے خوددارئ حیات کا ڈر مری زبان پہ کیا حرف آرزو آئے تری فضائے محبت ہو خوش گوار ...

مزید پڑھیے

خرد کے راستے میں ایک موڑ ایسا بھی آیا تھا

خرد کے راستے میں ایک موڑ ایسا بھی آیا تھا جہاں ہر آدمی انساں نہ تھا انساں کا سایہ تھا مصیبت نے ہمیں ایک آئنہ خانہ دکھایا تھا کہ جس میں مخلصوں کا ایک اک چہرہ پرایا تھا مٹائی تھی جنہوں نے لعنت دار و رسن پہلے انہی کو یار لوگوں نے صلیبوں پر چڑھایا تھا زمانہ کپکپاتا تھا تمہاری سرد ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی یہ دن بھی دیکھیں گے

کیا خبر تھی یہ دن بھی دیکھیں گے خون بوئیں گے صبر کاٹیں گے کس کو منصف کہیں کسے قاتل بچ رہے کل تلک تو سوچیں گے میں اگر یوں ہی سر اٹھاتا رہا لوگ اپنے ہی بت کو پوجیں گے آپ اپنا بھی جائزہ لے لیں ہم تو اپنی سزا کو پہنچیں گے قوم مذہب زمین رنگ زباں یوں ہی کب تک لکیریں کھینچیں گے کیا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے

آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے وہ درد کا پودا جو مرے دل میں اگا ہے جاں دے کے بھی چاہوں تو اسے پا نہ سکوں میں وہ چاند کا ٹکڑا جو دریچے میں جڑا ہے سیلاب ہیں چہروں کے تو آواز کے دریا یہ شہر تمنا تو نہیں دشت‌ صدا ہے اصغرؔ یہ سفر شوق کا اب کیسے کٹے گا جو ہم نے تراشا تھا وہ بت ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

چلتے چلتے رک جاتا ہے

چلتے چلتے رک جاتا ہے دیوانہ کچھ سوچ رہا ہے اس جنگل کا ایک ہی رستہ جس پر جادو کا پہرا ہے دور گھنے پیڑوں کا منظر مجھ کو آوازیں دیتا ہے دم لوں یا آگے بڑھ جاؤں سر پر بادل کا سایا ہے اس ظالم کی آنکھیں نم ہیں پتھر سے پانی رستا ہے بھیگا بھیگا صبح کا آنچل رات بہت پانی برسا ہے

مزید پڑھیے

ہم دشت سے ہر شام یہی سوچ کے گھر آئے

ہم دشت سے ہر شام یہی سوچ کے گھر آئے شاید کہ کسی شب ترے آنے کی خبر آئے معلوم کسے شہر طلسمات کا رستہ کچھ دور مرے ساتھ تو مہتاب سفر آئے اس پھول سے چہرے کی طلب راحت جاں ہے پھینکے کوئی پتھر بھی تو احساں مرے سر آئے تا پھر نہ مجھے تیرہ نصیبی کا گلا ہو یہ صبح کا سورج مری آنکھوں میں اتر ...

مزید پڑھیے

اک عمر مہ و سال کی ٹھوکر میں رہا ہوں

اک عمر مہ و سال کی ٹھوکر میں رہا ہوں میں سنگ سہی پھر بھی سر راہ وفا ہوں آپ اپنے ہی ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں آواز ہوں لیکن ترے ہونٹوں سے جدا ہوں کیا کم ہے کہ رسوائے جہاں ہوں تری خاطر میں داغ ہوں لیکن ترے ماتھے پہ سجا ہوں پانی میں نظر آتی ہے اک چاند سی صورت پیاسا ہوں مگر دیر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3953 سے 4657