شاعری

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں ہم بھی تمہارے ہوتے مگر یار کیا کریں ہیں بند سب دکانیں کہ بازار عشق میں ملتا نہیں ہے ہم سا خریدار کیا کریں لڑتے رہے ہوا سے جلاتے رہے چراغ اب اور روشنی کے طلب گار کیا کریں احباب چل دیے ترے دربار کی طرف اور ہم کہ آ گئے ہیں سر دار کیا کریں سیدھی سی ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں سے بھرا یہ آسماں دے جاؤں گا

چاند تاروں سے بھرا یہ آسماں دے جاؤں گا خود رہوں گا دھوپ میں اور سائباں دے جاؤں گا میرے اچھے ہم سفر تجھ کو بھی میں جاتے ہوئے راہ سے بھٹکا ہوا اک کارواں دے جاؤں گا ہیں زلیخائیں بہت کوئی بھی یوسف ہو تو میں مصر کے بازار میں اس کو دکاں دے جاؤں گا جس نے توڑا دل مرا اور خواب کرچی کر ...

مزید پڑھیے

مرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے

مرا گمان ہے شاید یہ واقعہ ہو جائے کہ شام مجھ میں ڈھلے اور سب فنا ہو جائے ہو بات اس سے کچھ ایسے کہ وقت ساکت ہو کلام اپنا تکلم سے ماورا ہو جائے بچا کے آنکھ میں خود اپنی کھوج میں نکلوں مرے وجود میں ایک چور راستہ ہو جائے کچھ اس طرح وہ نگاہ خیال میں اترے کہ اس کے آگے جھکوں اور وہ خدا ...

مزید پڑھیے

ہر دم کچھ اضطراب کے ایسے بھنور میں ہوں

ہر دم کچھ اضطراب کے ایسے بھنور میں ہوں جیسے کسی دعائے ضرر کے اثر میں ہوں بہہ جاؤں بن کے سیل رواں اس زمین پر میں اک اداس شام کسی چشم تر میں ہوں خود کی تلاش میں ہی زمانے گزر گئے کیا اپنی جستجو ہی کے دام سحر میں ہوں جیسے کسی اجاڑ خرابے میں گونج ہو موجود اس طرح ترے دیوار و در میں ...

مزید پڑھیے

عجیب شخص ہوں فرط وبال ہوتے ہوئے

عجیب شخص ہوں فرط وبال ہوتے ہوئے فراق مانگ رہا ہوں وصال ہوتے ہوئے نڈھال اپنے تماشائیوں کے جھرمٹ میں میں خود کو دیکھ رہا ہوں خیال ہوتے ہوئے بس ایک ورزش تحریر لوح ہستی پر بس اک سوال کی دھن خود سوال ہوتے ہوئے کچھ اس کمال سے روندا گیا ہوں مستی میں بہت سکون ہے اب پائمال ہوتے ...

مزید پڑھیے

زندگانی سے لپٹ کر خود کو بہلاتا ہوں میں

زندگانی سے لپٹ کر خود کو بہلاتا ہوں میں یہ کہانی روز اپنے آپ دہراتا ہوں میں صبح دم میں کھولتا ہوں قفل جس زندان کا دن ڈھلے اس قید خانے میں پلٹ آتا ہوں میں پاٹتا رہتا ہوں دن بھر اک خلیج ذات کو پھر کسی انجان اندیشے سے پچھتاتا ہوں میں دن چڑھے اوہام کی منڈی میں سودا بیچ کر رات کو ...

مزید پڑھیے

گماں کے رخش سبک کی ایال تھامے ہوئے

گماں کے رخش سبک کی ایال تھامے ہوئے بھٹک رہا ہوں جنوں میں خیال تھامے ہوئے بقا کی جنگ میں خود سے فلک سے دنیا سے میں لڑ رہا ہوں تمنا کی ڈھال تھامے ہوئے وہ کشمکش بھی شناسائیوں کی کیا ہوگی ملیں گے خود سے جب اپنے سفال تھامے ہوئے ہر ایک پل کوئی بار گراں سا لگتا ہے کہ جیسے لمحہ گزارتا ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں ہے ذہن غالب کہ میں سویا ہوا ہوں

جانے کیوں ہے ذہن غالب کہ میں سویا ہوا ہوں آئنہ خانۂ افلاک میں کھویا ہوا ہوں ہوں مثلث یا کوئی دائرہ تجریدی سا ذہن یزداں میں میں تمثیل سا گویا ہوا ہوں ندیاں بھر گئیں لبریز ہیں دریا سارے ہے یہ برسات کی جل تھل کہ میں رویا ہوا ہوں جانتا ہوں کہ یہ حسرت ہی مری منزل ہے شوق کی تشنہ ...

مزید پڑھیے

کیا یہ ممکن ہے کہ اک خواب مسلسل دیکھوں

کیا یہ ممکن ہے کہ اک خواب مسلسل دیکھوں نیند کھل جائے تو منظر یہی پھر کل دیکھوں نیم وا پردۂ دل کاش گرا دے کوئی دیکھ پاؤں ترا چہرہ تو مکمل دیکھوں قاف کے پار کسی دیس میں جا کر اتروں آسماں پر تجھے نمناک سا بادل دیکھوں دشت امکاں سے پرے وقت کے در پر پہنچوں ایک لمحے کو جکڑ لوں اسے پل ...

مزید پڑھیے

جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا

جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا اسیران خرد کے حال میں شامل کا کیا کہنا جمال مستیٔ غرقاب میں دم خم تو ہے لیکن کسی چشم فنا کی خواہش ساحل کا کیا کہنا درون ازدحام مردماں گر خود سے ملنا ہو تو ایسی اتفاقی منفرد محفل کا کیا کہنا ہے گر اپنا مقدر کشتۂ تیغ جفا ہونا تو پھر ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3927 سے 4657