شاعری

کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے

کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے یہ بیاباں کبھی گنجان ہوا کرتے تھے وقت تھم جاتا تھا دھڑکن کی صدا سنتے ہوئے جب ترے آنے کے امکان ہوا کرتے تھے سانس رک جاتی تھی لہجے میں کسک ہوتی تھی جس سمے کوچ کے اعلان ہوا کرتے تھے نامہ بر آتا تھا رستے بھی تکے جاتے تھے کیا جواں وقت تھا رومان ...

مزید پڑھیے

جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا

جواب مانگتا تھا میں سوال دے دیا گیا تلاش در تلاش کا وبال دے دیا گیا عطا ہوا تھا جب یقیں کی سبز وادیوں میں گھر تو کیوں در گماں پس خیال دے دیا گیا مری زمین چشم نم میں خواب بو دیے گئے مجھے خمیر شوق لا زوال دے دیا گیا ہواؤں کو دیار دل کی رات سونپ دی گئی بدن کو شمع ناتواں کا حال دے دیا ...

مزید پڑھیے

رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے

رات بھر شعلۂ جاں خوب بڑھایا جائے پھر دم صبح ہی خوابوں کو جلایا جائے جب قضا لکھ ہی چکی سلسلۂ راہ فنا کیوں نہ پھر وقت اجل جلد بلایا جائے ساعت شام غم ہجر کا سناٹا ہے شہر اوہام کو سپنوں سے سجایا جائے جدت وحشت صحرا کے لیے لازم ہے دشت کے بیچ اب اک شہر بسایا جائے بار جاں لاد لیا سر ...

مزید پڑھیے

سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا

سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں کیا جانئے میں کون سی مٹی سے بنا تھا کیا کیا نہ پریشانیٔ خاطر سے گزر آئے کیا کیا نہ پڑے رنج کہ دیکھا ...

مزید پڑھیے

آنکھ بے خواب ہوئی ہے کیسی

آنکھ بے خواب ہوئی ہے کیسی یہ ہوا اب کے چلی ہے کیسی تو مری یاد میں روتا تو نہیں یہ ہواؤں میں نمی ہے کیسی سایہ ہے اور کشیدہ کتنا دھوپ ہے اور کڑی ہے کیسی کیسا سویا ہے مقدر اپنا اور زمیں گھوم رہی ہے کیسی رسم دنیا ہے جسے جانا ہے ہم پہ افتاد پڑی ہے کیسی گنگ ہیں زندہ دلان لاہور رسم ...

مزید پڑھیے

حیرت ہے وہ خون کی باتیں کرتے ہیں

حیرت ہے وہ خون کی باتیں کرتے ہیں جو اکثر قانون کی باتیں کرتے ہیں جن کی جیبیں اکثر خالی رہتی ہیں جانے کیوں قارون کی باتیں کرتے ہیں اپنی گلیوں کا بھی جن کو علم نہیں دیکھو وہ رنگون کی باتیں کرتے ہیں کب سے موسم سرد پڑا ہے ملنے کا اور وہ ہیں کہ جون کی باتیں کرتے ہیں دل کی دنیا بگ ...

مزید پڑھیے

اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے

اپنے دل میں آگ لگانی پڑتی ہے ایسے بھی اب رات بتانی پڑتی ہے اس کی باتیں سن کر ایسے اٹھتا ہوں جیسے اپنی لاش اٹھانی پڑتی ہے وو خوابوں میں ہاتھ چھڑا کر جائے تو نیندوں میں آواز لگانی پڑتی ہے کیا خوشبو سے میں اس کی بچ پاؤں گا رستہ میں جو رات کی رانی پڑتی ہے اب جا کر کے بات سمجھ میں ...

مزید پڑھیے

دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا

دنیا کو حادثوں میں گرفتار دیکھنا جب دیکھنا ہو دوستوں اخبار دیکھنا پھر اس کے بعد شوق سے بیعت کرو مگر پہلے امیر شہر کا کردار دیکھنا اس کی طرف ہے امن کا پرچم لگا ہوا لیکن مرا وہ خواب میں تلوار دیکھنا نسبت ہے ہم کو تین سو تیرہ سے آج ممکن نہیں کے ہم کو پڑے ہار دیکھنا وہ شخص کیا گیا ...

مزید پڑھیے

مری غزل گنگنا رہا تھا

مری غزل گنگنا رہا تھا وہی جو مجھ سے خفا رہا تھا میرے خیالوں میں گم تھا شاید وہ اپنا کنگن گھما رہا تھا میں بادلوں کو ملا ملا کر اسی کا چہرہ بنا رہا تھا بنا تمہارے نہ جی سکیں گے وہ نیند میں بد بدا رہا تھا جو اس کی آنکھوں سے پی لی اک دن کئی دنوں تک نشہ رہا تھا

مزید پڑھیے

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے

دماغ و دل میں ہلچل ہو رہی ہے ندی یادوں کی بے کل ہو رہی ہے تو اپنے فیس کو ڈھنک کر نکلنا نگر میں دھوپ پاگل ہو رہی ہے تمہاری یاد کا ڈاکہ پڑا ہے ہماری زیست چمبل ہو رہی ہے ابھی تو شوق سے پھاڑا ہے دامن ابھی تو بس ریہرسل ہو رہی ہے یاد آنکھوں پہ چشمہ گیر کا ہے مری تصویر اوجھل ہو رہی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 3928 سے 4657