کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے
کیا تمہیں یاد ہے انسان ہوا کرتے تھے یہ بیاباں کبھی گنجان ہوا کرتے تھے وقت تھم جاتا تھا دھڑکن کی صدا سنتے ہوئے جب ترے آنے کے امکان ہوا کرتے تھے سانس رک جاتی تھی لہجے میں کسک ہوتی تھی جس سمے کوچ کے اعلان ہوا کرتے تھے نامہ بر آتا تھا رستے بھی تکے جاتے تھے کیا جواں وقت تھا رومان ...