شاعری

بے یقینی کے ڈر سے ٹوٹ گئے

بے یقینی کے ڈر سے ٹوٹ گئے ہم جو دست ہنر سے ٹوٹ گئے تم نہیں جانتے کہ کتنے دل حادثے کے اثر سے ٹوٹ گئے حوصلے دھوپ نے کئے پسپا جسم لمبے سفر سے ٹوٹ گئے پھر ہمیں کرچیاں دکھانے لگا خواب جب خواب گر سے ٹوٹ گئے ایک طائر کی واپسی نہ ہوئی سبز موسم شجر سے ٹوٹ گئے کبھی ہم چاک تک نہیں ...

مزید پڑھیے

سیاہ شب کی بلاؤں کے ہاتھ لگ گئے تھے

سیاہ شب کی بلاؤں کے ہاتھ لگ گئے تھے مرے چراغ ہواؤں کے ہاتھ لگ گئے تھے وہ لے کے کترنیں گڑیا بنانے لگ گئی تھی کہ شہر زادی کو گاؤں کے ہاتھ لگ گئے تھے ہماری موت یقینی بتائی جا رہی تھی ہمارے خط بھی خداؤں کے ہاتھ لگ گئے تھے ہمارے جسم کہ گھوڑوں کی ٹاپوں میں پڑے تھے ہمارے سر کہ سناؤں کے ...

مزید پڑھیے

چنبیلی رات کہہ رہی تھی میری بو لیا کریں

چنبیلی رات کہہ رہی تھی میری بو لیا کریں اور اس سے جی نہیں بھرے تو مجھ کو چھو لیا کریں گر آپ کو بھی شوق ہے قد آوری کا یوں کریں زمیں میں پاؤں گاڑ کر ذرا نمو لیا کریں کبھی بھی اچھے دیوتا نہیں بنیں گے ایسے آپ چڑھاوے میں روپے نہیں فقط لہو لیا کریں ہمارے میکدے کا یہ اصول ہے سبھی ...

مزید پڑھیے

چٹکی کاٹو ذرا ہلاؤ مجھے

چٹکی کاٹو ذرا ہلاؤ مجھے میں یہیں ہوں یقیں دلاؤ مجھے روز اک جھیل راہ تکتی ہے کھینچ لیتا ہے اک الاؤ مجھے جنتی ہوں تو پھر بڑھو آگے تتلیوں آؤ گد گداؤ مجھے میں ہوں دریا سو کرنا پڑتا ہے کہیں رستہ کہیں کٹاؤ مجھے اپنی رفتار کھو چکا ہوں میں کتنا مہنگا پڑا پڑاؤ مجھے میں کنارہ ہوں اور ...

مزید پڑھیے

مختصر شب کی طوالت نہیں کی جا سکتی

مختصر شب کی طوالت نہیں کی جا سکتی کم کسی طور اذیت نہیں کی جا سکتی ہم نے تو ایک پری وش سے محبت کی ہے لوگ کہتے ہیں محبت نہیں کی جا سکتی لاکھ ہوتے ہوں سبب ترک سکونت کے مگر شہر جاں سے کبھی ہجرت نہیں کی جا سکتی میرے نادان مت اس کو مری فن کاری سمجھ خود پہ طاری کبھی وحشت نہیں کی جا ...

مزید پڑھیے

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا

جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا ظالم کے ستم سے ہو اگر خلق خدا تنگ دنیا اسے کیا مار گرایا نہیں جاتا پیران عجم کیجیے تدبیر ابھی آپ دل سے تو مرے کرب کا سایا نہیں جاتا مقدور اگر ہو تو وہ پہنچانا سہولت جمہور کو انگلی پہ نچایا نہیں جاتا حالات بدل ...

مزید پڑھیے

روزانہ کوئی کاسہ گدائی کا اٹھا کر

روزانہ کوئی کاسہ گدائی کا اٹھا کر کوچے سے گزر جاتا ہے آواز لگا کر یہ کیسا ستم ہے کہ دکھائی نہ دے مجھ کو وہ شخص جو نکلا نہیں سینے میں سما کر دل کس کی تسلی کے لیے جلنے لگا تھا دل کس کے لیے راکھ ہوا خود کو جلا کر اک آئنہ بردار کے ماتھے پہ لکھا تھا سچ بول مگر جھوٹ کی شیرینی ملا ...

مزید پڑھیے

خبر نہیں کہ سفر ہے کہ ہے قیام ابھی

خبر نہیں کہ سفر ہے کہ ہے قیام ابھی طلسم شہر میں کھوئے ہیں خاص و عام ابھی صدا بھی دے گا کبھی تو سکوت کا صحرا کسی کو ہونے تو دو خود سے ہم کلام ابھی جو دیکھیے تو زمانہ ہے تیز رو کتنا طلوع صبح ابھی ہے تو وقت شام ابھی وہ قحط آب ہے دریا بھی سارے خشک ہوئے رواں جو ابر ہے کرتا نہیں قیام ...

مزید پڑھیے

میں کہ خود اپنے خیالات کا زندانی ہوں

میں کہ خود اپنے خیالات کا زندانی ہوں تیری ہر بات کو کس طرح گوارا کر لوں صحرا صحرا جو پھرا کرتا ہے تیری خاطر ہائے وہ شخص جسے کہتی ہے دنیا مجنوں دل نے گو لاکھ یہ چاہا کہ بھلا دوں تجھ کو یاد نے تیری مگر آج بھی مارا شب خوں کس خرابے میں ہمیں لائی ہے وحشت کہ جہاں کوئی دیوار نہ در ہے نہ ...

مزید پڑھیے

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے

نگاہ کوئی تو طوفاں میں مہربان سی ہے ہر ایک موج سمندر کی پائیدان سی ہے ہر ایک شخص کو گاہک سمجھ کے خوش رکھنا یہ زندگی بھی ہماری کوئی دکان سی ہے میں آسماں کی طرح مدتوں سے ٹھہرا ہوں بدن میں پھر بھی زمیں جیسی کچھ تھکان سی ہے دکھوں کا کیا ہے یہ آتے ہیں تیر کی مانند خوشی ہمیشہ مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3849 سے 4657