شاعری

روح میں درد کا پیوند لگانے والا

روح میں درد کا پیوند لگانے والا تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا ضد ہے قاتل کو اسے بخش دیا جائے گا جرم تسلیم کرے دار پہ جانے والا آج کچھ درد ...

مزید پڑھیے

سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں

سر پر ہمارے سایۂ دیوار بھی نہیں سورج سا ہم فقیروں کا گھر بار بھی نہیں مجھ سے تعلقات کا اقرار بھی نہیں اور کوئی پوچھتا ہے تو انکار بھی نہیں گہرائی اس ندی کی بھلا کیا پتا لگے جس میں بھنور نہیں کوئی منجھدار بھی نہیں جس کو تمام عمر عمل میں نہ لا سکے ایسی وہ رائے دینے کا حق دار بھی ...

مزید پڑھیے

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر

درخت دھوپ سے لڑتا ہے اس قدر دن بھر پھلوں سے شاخوں سے رہتا ہے بے خبر دن بھر نہ آبشار نہ پنچھی نہ جانور نہ درخت عجیب دشت میں کرتا رہا سفر دن بھر ڈھلی جو شام تو بچے سا سو گیا سورج دکھا رہا تھا کئی طرح کے ہنر دن بھر مرے نصیب میں کیا اور کچھ لکھا ہی نہیں سفر میں رہتا ہوں گھر پر میں رات ...

مزید پڑھیے

لوگ آئے ہی نہیں مجھ کو میسر ایسے

لوگ آئے ہی نہیں مجھ کو میسر ایسے جو مجھے کہتے کہ ایسے نہیں ازبرؔ ایسے جیسا میں ہوں مرے چہرے کی ہنسی جیسی ہے غور سے دیکھ کہ ہوتے نہیں جوکر ایسے تیز دوڑا کے اچانک مری رسی کھینچی اس نے سمجھایا مجھے لگتی ہے ٹھوکر ایسے آنکھ کھلنے پہ جو اٹھتا ہوں تو چکراتا ہوں کون دیتا ہے مجھے خواب ...

مزید پڑھیے

اب کے یہ بات ذہن میں ٹھانی ہے اور بس

اب کے یہ بات ذہن میں ٹھانی ہے اور بس ہم نے تو اپنی جان بچانی ہے اور بس نقصان تو ہمارا ہے کچے گریں گے ہم تم نے تو ایک شاخ ہلانی ہے اور بس اس نے خریدنے ہیں کئی سات رنگ خواب ہم نے سیاہ نیند کمانی ہے اور بس ہم نے بڑے جتن سے جلانا ہے اک چراغ اس نے ہوا کو انگلی دکھانی ہے اور بس اتنی سی ...

مزید پڑھیے

چھوڑو یہ بات چیت بھی کس کا ہے کیا ہوا

چھوڑو یہ بات چیت بھی کس کا ہے کیا ہوا اچھا ہوا ہے یار جو اچھا برا ہوا دھیرے سے چلنا چاہیے تھا بھاگنے لگے ہم نے خراب کر لیا رستہ بنا ہوا آنکھوں کا لمس جسم کے ہاتھوں میں سونپ کر اس نے چراغ گل کیا آدھا جلا ہوا آدھا ادھورا ہجر جوانی چبا گیا آدھے ادھورے عشق میں بچپن ہوا ہوا دل کا ...

مزید پڑھیے

جواب مانگا تو الٹا سوال کرنے لگے

جواب مانگا تو الٹا سوال کرنے لگے ہمارے عہد کے بچے کمال کرنے لگے بڑے بزرگ پرندوں سے پیار کرتے تھے سو ہم بھی سبز رتوں کا خیال کرنے لگے جو زرد رو ہیں وہ پھولوں کو دیکھ کر اپنے طمانچے مار کے رخسار لال کرنے لگے دماغ ٹھیک ہے لیکن یہ دل وبالی ہے نہ جانے کون گھڑی کیا وبال کرنے لگے میں ...

مزید پڑھیے

وصال رت کی کمائی سمجھ میں آنے لگی

وصال رت کی کمائی سمجھ میں آنے لگی جدا ہوئے تو جدائی سمجھ میں آنے لگی قفس کے پار کی دنیا کا حسن کھلنے لگا رہا ہوئے تو رہائی سمجھ میں آنے لگی اسے بھی اپنی بھلائی کی فکر لاحق تھی ہمیں بھی اپنی بھلائی سمجھ میں آنے لگی کھلی جب آنکھ گماں سے یقین کی جانب تو منظروں کی اکائی سمجھ میں ...

مزید پڑھیے

زمیں بنائی نئے زاویے بنانے پڑے

زمیں بنائی نئے زاویے بنانے پڑے کہیں پہ قوس کہیں دائرے بنانے پڑے کہیں تھی روشنی مطلوب اور کہیں رونق کہیں چراغ کہیں قمقمے بنانے پڑے وہ اک سفر جو ہمیں زندگی کی شکل ملا اس اک سفر کے کئی مرحلے بنانے پڑے فراغتوں میں یہاں اور کچھ نہ بن پایا ستم بنانے پڑے مسئلے بنانے پڑے نئی ہواؤں ...

مزید پڑھیے

جانے کیسا سوگ منایا جاتا ہے

جانے کیسا سوگ منایا جاتا ہے کچھ قبروں پر دیا جلایا جاتا ہے کچھ جسموں کی لذت پوری کرنے کو کچھ جسموں کو کھینچ کے لایا جاتا ہے وہ آنکھیں پنجرے میں ہوتی ہیں جن کو آزادی کا خواب دکھایا جاتا ہے وصل تو پہلا راگ ہے سب گا لیتے ہیں ہجر کہاں ہر ایک سے گایا جاتا ہے کچھ نقطے الفاظ کی زینت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3848 سے 4657