روح میں درد کا پیوند لگانے والا
روح میں درد کا پیوند لگانے والا تیرا ہر خواب ہے پلکوں کو جلانے والا اک تصور کے سوا رات کے سناٹے میں کون ہے بند کواڑوں کو ہلانے والا میری حسرت ہے سلیقے سے کوئی تیر چلے کیا یہاں کوئی نہیں ٹھیک نشانے والا ضد ہے قاتل کو اسے بخش دیا جائے گا جرم تسلیم کرے دار پہ جانے والا آج کچھ درد ...