شاعری

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں

سفر میں یوں تو بلائیں بھی کام کرتی ہیں مگر کسی کی دعائیں بھی کام کرتی ہیں مشاعروں میں فقط شاعری نہیں چلتی مشاعروں میں ادائیں بھی کام کرتی ہیں چراغ ہوں نہ کوئی پھول ہوں یہاں پھر بھی مرے خلاف ہوائیں بھی کام کرتی ہیں کسی کے رونے سے میں بھی بکھرنے لگتا ہوں کہ آنسوؤں کی صدائیں بھی ...

مزید پڑھیے

وہ مسکرا کے دل و جاں پہ وار کرتا ہے

وہ مسکرا کے دل و جاں پہ وار کرتا ہے کہ ایک تیر سے دو دو شکار کرتا ہے میں اس کو دوست سمجھنے لگا مگر مجھ کو وہ دشمنوں میں ابھی تک شمار کرتا ہے خیال میں بھی نہ آئے جو میرے دشمن کے وہ کام میرے لئے میرا یار کرتا ہے اس آدمی سے تو ہر وقت ہوشیار رہو جو دوسروں سے تمہیں ہوشیار کرتا ہے بس ...

مزید پڑھیے

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے

میرا نہیں ہے اور نہ کسی اور ہی کا ہے پرتو جہاں کہیں ہے تری روشنی کا ہے پنچھی درخت پھول تو منہ ڈھک کے سو گئے جنگل میں راج پاٹ بس اب چاندنی کا ہے لٹنے کا ڈر سہی پہ محبت کی راہ میں جانا تو اسی گلی سے ہر اک آدمی کا ہے برسوں پرانا زخم ہے ایسا ہرا مگر دیکھے طبیب تو وہ کہے آج ہی کا ...

مزید پڑھیے

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے

اک تھکن قوت اظہار میں آ جاتی ہے وقت کے ساتھ کمی پیار میں آ جاتی ہے بس کہیں چھور سمندر کا نظر آ جائے کوئی طاقت مری پتوار میں آ جاتی ہے وہ گزرتا ہے تو کھلتے ہیں دریچے گھر کے اک چمک سی در و دیوار میں آ جاتی ہے ٹوٹے گھنگھرو کی جو آواز ہوا کرتی ہے وہ کھنک کیوں مری گفتار میں آ جاتی ...

مزید پڑھیے

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے

جب اس کے سامنے سورج ہوا ندی کیا ہے ہم آدمی ہیں ہماری بساط ہی کیا ہے بچھڑ کے گھر سے یہی سوچتا ہوں میں دن رات شجر سے ٹوٹ کے پتوں کی زندگی کیا ہے جلے مگر جو نہ روشن ہوئے زمانے میں وہی چراغ سمجھتے ہیں روشنی کیا ہے بس ایک رات کا مہمان ہے پرندہ یہاں اسے پتہ ہی نہیں شاخ چاہتی کیا ...

مزید پڑھیے

کرم ہے اس کا کوئی بد دعا نہیں لگتی

کرم ہے اس کا کوئی بد دعا نہیں لگتی مرے چراغ جلیں تو ہوا نہیں لگتی تمہارے پیار کی زنجیر میں بندھا ہوں میں سزا یہ کیسی ملی ہے سزا نہیں لگتی کسی سے پیار کرو اور تجربہ کر لو یہ روگ ایسا ہے جس میں دوا نہیں لگتی اگر زمانہ ہے ناراض تو رہے ناراض ہمیں کچھ اس میں تمہاری خطا نہیں لگتی یہ ...

مزید پڑھیے

بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے

بھلی ہو یا کہ بری ہر نظر سمجھتا ہے ہر ایک شخص کی آہٹ کو گھر سمجھتا ہے ہر ایک در کو وہ اپنا ہی در سمجھتا ہے مگر زمانہ اسے در بہ در سمجھتا ہے پھل اور شاخ سمجھنے میں چوک جائیں مگر ہے کس جگہ کا پرندہ شجر سمجھتا ہے کچھ اس طرح سے دکھاتا ہے وہ ہنر اپنا کہ جیسے سب کو یہاں بے ہنر سمجھتا ...

مزید پڑھیے

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے

عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہے درخت نیکی بڑی خاموشی سے کرتا ہے میں اس کا دوست ہوں اچھا یہی نہیں کافی امید اور بھی کچھ دوستی سے کرتا ہے جواب دینے کو جی چاہتا نہیں اس کو سوال ویسے بڑی عاجزی سے کرتا ہے جسے پتہ ہی نہیں شاعری کا فن کیا ہے وہ کاروبار یہاں شاعری سے کرتا ہے سمندروں سے ...

مزید پڑھیے

دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا

دیکھا جو ایک شخص عجب آن بان کا اک سلسلہ سا رہتا ہے ہر وقت دھیان کا بے سوچے سمجھے گھر سے جو یوں ہی نکل پڑے اب ڈھونڈتے ہیں سایہ کسی سائبان کا کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا بستی میں ہیں پہ ایسے کہ سب سے جدا ہیں ہم اچھا تھا خبط ہم کو بھی اونچے مکان ...

مزید پڑھیے

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج

ہو گئی شام ڈھل گیا سورج دن کو شب میں بدل گیا سورج گردش وقت کٹ گئی آخر لو گہن سے نکل گیا سورج دن بھی جیسے اداس رہتا ہے ہائے کتنا بدل گیا سورج ہم نے جس کوچے میں گزاری شب اس جگہ سر کے بل گیا سورج اب بہت ہو چکے اٹھو نادرؔ چڑھ گیا دن نکل گیا سورج

مزید پڑھیے
صفحہ 3850 سے 4657