شاعری

شاخ جذبات پہ نغمات کا منظر خاموش

شاخ جذبات پہ نغمات کا منظر خاموش غم کی آغوش میں ارماں کا کبوتر خاموش نیند روتی رہی سنسان کھنڈر میں چھپ کر قصر شاہی کا حسیں مخملیں بستر خاموش سرخ آندھی چلی اس بار ہلاکت کی عجب غرق امواج ہوئیں اور سمندر خاموش سکہ بیٹھا تھا اس انساں کی وفا کا ایسا شرک بے ہوش تھا اور ظلم کا لشکر ...

مزید پڑھیے

زیست میری عذاب ہو جیسے

زیست میری عذاب ہو جیسے موت دل کش گلاب ہو جیسے مثل اوراق ہیں سبھی انساں اور دنیا کتاب ہو جیسے شوق سے کھا رہے ہیں سب حیواں ایک مردہ کباب ہو جیسے آنکھ دھرتی کی سرخ ہونے لگی نور انجم شراب ہو جیسے کب سے شعلوں پہ سو رہا تھا مگر اب بھی وہ نیم خواب ہو جیسے پنکھڑی پھول کی ہے پژمردہ باد ...

مزید پڑھیے

جسم جب بادل کا سادہ ہو گیا

جسم جب بادل کا سادہ ہو گیا ذہن سورج کا کشادہ ہو گیا چشم منظر سے جو نکلا ہے لہو زرد پیپل کا لبادہ ہو گیا ہر طرف چھانے لگیں مدہوشیاں اشک بلبل جب کہ بادہ ہو گیا سارے میوے گر گئے اس پیڑ سے بوجھ کس شے کا زیادہ ہو گیا قطرۂ ناچیز قدسیؔ شاد ہے سیپ کا سینہ کشادہ ہو گیا

مزید پڑھیے

وہ ایک شخص مرا ہم مزاج پہلے تھا

وہ ایک شخص مرا ہم مزاج پہلے تھا بدل گیا وہی کل میں جو آج پہلے تھا بشر کی پیاس بشر کے لہو سے بجھتی ہے جہاں میں کیا یہی خونی رواج پہلے تھا تمام وقت گزرتا ہے لغویات میں اب ہمارے سر پہ بہت کام کاج پہلے تھا یہ ایسا دور کہ انسانیت بلکتی ہے سکوں سے پر بڑا سادہ سماج پہلے تھا نہ دیکھی ...

مزید پڑھیے

دل کا گلشن جلا گئے کانٹے

دل کا گلشن جلا گئے کانٹے ان کی یادیں مٹا گئے کانٹے اب ضرورت نہیں رہی گل کی اتنی کثرت سے آ گئے کانٹے زیست میں رہ گئی چبھن ہی چبھن ایسا قبضہ جما گئے کانٹے گل ہی کیا گلستاں بھی حیراں ہے اس قدر مجھ کو بھا گئے کانٹے اب تو خوشیوں کی بو نہیں ملتی ہر طرف غم کے چھا گئے کانٹے ان پہ کلیاں ...

مزید پڑھیے

دل کے صفحوں میں جال لفظوں کا

دل کے صفحوں میں جال لفظوں کا جان پر ہے وبال لفظوں کا کیسے محفوظ ہوں اصول حروف بڑھ رہا ہے ضلال لفظوں کا الجھے رہتے ہیں سب عبارت میں ہے عجب یہ کمال لفظوں کا حرف تو حرف کٹ گئے نقطے اللہ اللہ جلال لفظوں کا اب قیامت زباں پہ آئے گی ہو رہا ہے قتال لفظوں کا ہے کتابوں میں دیمکوں کا ...

مزید پڑھیے

ریزہ ریزہ ہوا جواں پتھر

ریزہ ریزہ ہوا جواں پتھر کہہ رہا ہے یہ داستاں پتھر کھل اٹھے پھول اس کے سینے میں بن گیا ایک گلستاں پتھر برف باری سے زندگی ہے وبال رو کے کہتا ہے بے زباں پتھر کر دیا پاش پاش تیشے نے کتنا بے بس ہے ناتواں پتھر یوں ہے طاری سکوت ہستی پر جیسے ہو نظم کل جہاں پتھر ٹھوکروں سے ہے لالہ زار ...

مزید پڑھیے

بہار وقت کا ہر اک چلن شکستہ ہے

بہار وقت کا ہر اک چلن شکستہ ہے یہی سبب ہے چمن کا بدن شکستہ ہے تمہاری روح کا آکاش نیلگوں ہے مگر اب آفتاب بدن کی کرن شکستہ ہے یقیں کا پردۂ مبہم پڑا ہی رہنے دو گمان و وہم کی یہ انجمن شکستہ ہے ہوا کے پیر میں زنجیر ڈال دو بڑھ کر کہ عندلیب کا شہر وطن شکستہ ہے فضائے دہر نے اوڑھی ہے ...

مزید پڑھیے

روز چھپتی ہے یہ خبر تازہ

روز چھپتی ہے یہ خبر تازہ جل گئے بے گھروں کے گھر تازہ یوں مسلط درندگی ہے یہاں خون پی کر ہوا بشر تازہ تیرہ و تار لیلئ شب سے پھوٹتی ہے نئی سحر تازہ اشک بہتے ہیں چشم غربت سے ہاتھ میں ظلم کے ہے زر تازہ درد میں بھیگتا رہا ساحل موج کرتی رہی سفر تازہ کیسے پرواز فکر میں ہو جمود ہیں ...

مزید پڑھیے

اڑا غبار ہواؤں کی انجمن میں ہے

اڑا غبار ہواؤں کی انجمن میں ہے دھواں دھواں سا فضاؤں کی انجمن میں ہے نگاہ منظر دل کش میں چھا گئی سرخی مئے خمار صداؤں کی انجمن میں ہے لباس پوش کی خواہش میں لگ گیا ہے زنگ شکستہ داغ قباؤں کی انجمن میں ہے تم اس سے دور رہو نیند اڑ نہ جائے کہیں تھکن خمیدہ رداؤں کی انجمن میں ہے نظام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3842 سے 4657