شاعری

وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا

وہ روح کے گنبد میں صدا بن کے ملے گا اک دن وہ مجھے میرا خدا بن کے ملے گا بھٹکوں گا میں اس شہر کی گلیوں میں اکیلا وہ مجھ کو مرے دل کا خلا بن کے ملے گا وہ دور بھی آئے گا کہ ہر لمحۂ ہستی مجھ سے ترے ملنے کی دعا بن کے ملے گا کس زعم سے بچھڑا ہے مگر دیکھنا یہ بھی تو خود سے خود اپنی ہی سزا بن ...

مزید پڑھیے

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو

کبھی ملی جو ترے درد کی نوا مجھ کو خموشیوں نے مجھی سے کیا جدا مجھ کو بدن کے سونے کھنڈر میں کبھی جلا مجھ کو میں تیری روح کی ضو ہوں نہ یوں بجھا مجھ کو میں اپنی ذات کی ہم سائیگی سے ڈرتا ہوں مرے قریب خدا کے لیے نہ لا مجھ کو میں چپ ہوں اپنی شکست صدا کی وحشت پر مجھے نہ بولنا پڑ جائے مت ...

مزید پڑھیے

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے

آنے والے حادثوں کے خوف سے سہمے ہوئے لوگ پھرتے ہیں کہ جیسے خواب ہوں ٹوٹے ہوئے صبح دیکھا تو نہ تھا کچھ پاس الجھن کے سوا رات ہم بیٹھے رہے کس سوچ میں ڈوبے ہوئے اپنے دکھ میں ڈوب کر وسعت ملی کیسی ہمیں ہیں زمیں سے آسماں تک ہم ہی ہم پھیلے ہوئے آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا ایک ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر وہ پھول جو کہ تری دسترس سے باہر تھا وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا ہر ایک انگ لبالب بھرا ہو جیسے جام تمہارا جسم تھا یا مے ...

مزید پڑھیے

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا

روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا جس نے میرا ساتھ چھوڑا اور کسی کا ہو گیا سچ تو یہ ہے مجھ سے بھی بڑھ کر وہ تنہا ہو گیا وقت کا یہ موڑ کیسا ہے کہ تجھ سے مل کے بھی تجھ کو کھو دینے کا غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہم نے تنہائی کی چادر تان لی اور سو ...

مزید پڑھیے

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک

دل کے صحرا پر دیتے ہیں جب اشکوں کے ساگر دستک روح کے سناٹے میں سنتا ہوں میں اندر باہر دستک اب تک ہر شب سوتے سوتے چونک اٹھتا ہوں تنہائی میں مدت بیتی میں نے سنی تھی اک شب اپنے در پر دستک شام کا ڈھلتا سورج دور افق پر ٹھہرا سوچ رہا ہے کب شب بیتے اور وہ دے پھر صبح کے دروازے پر ...

مزید پڑھیے

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا

آج تک پھرتا رہا میں تجھ میں ہی کھویا ہوا تجھ سے بچھڑا ہوں تو خود سے مل لیا اچھا ہوا زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں ایسا ہوا مدتوں ہم پر نہ تیری یاد کا سایا ہوا دل سے شاید تیرا غم بھی اب جدا ہونے کو ہے پھر رہا ہوں ان دنوں خود سے بھی میں الجھا ہوا تم چمکتی کار پھولوں کی مہک اک ...

مزید پڑھیے

اس دور میں جسموں کے خریدار بہت ہیں

اس دور میں جسموں کے خریدار بہت ہیں ہر سمت گناہوں کے بھی بازار بہت ہیں بالیدگیاں روح ادب میں تو سمیٹو اسلاف کے اس ہند میں آثار بہت ہیں تحقیق تمہاری یہ ادھوری ہی رہے گی قدرت کے جہاں میں ابھی اسرار بہت ہیں تم شوق سے شہروں کے اجالوں سے ہو محظوظ میرے لئے پاتال ضیا بار بہت ...

مزید پڑھیے

خوابوں کو لباس دے رہا ہوں

خوابوں کو لباس دے رہا ہوں زخموں کی کپاس دے رہا ہوں سیرابیٔ درد و غم کی خاطر اشکوں کا گلاس دے رہا ہوں تم روح کو عطر بیز کر لو میں خلد کی باس دے رہا ہوں ایقاں کی پھٹی لحد میں جا کر میں خاک قیاس دے رہا ہوں ہے کذب کے بحر میں روانی اب صدق کی پیاس دے رہا ہوں سرسبز رہے گا فن کا ...

مزید پڑھیے

کہتا ہے کون سنگ و شجر بولتے نہیں

کہتا ہے کون سنگ و شجر بولتے نہیں وہ بولتے ہیں جب تو بشر بولتے نہیں تعمیل حکم رب میں ہیں مصروف رات دن اس واسطے یہ شمس و قمر بولتے نہیں گاؤں کے ذرے ذرے میں ہے شور و غل مگر بازار چپ ہے اور نگر بولتے نہیں پل پل کی ہے خبر انہیں پھر بھی نہ جانے کیوں دیوار بے زبان ہے در بولتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3841 سے 4657