شاعری

کس قدر ہے تو بے وفا سورج

کس قدر ہے تو بے وفا سورج شام ہوتے ہی بجھ گیا سورج سخت حدت میں گھر گیا عالم دے گیا دھوپ کو ہوا سورج خود کرن مانگتی ہے تجھ سے پناہ اوڑھ لے ابر کی ردا سورج اب تو بربادیاں ہیں سر پہ ترے وقت اپنا نہ تو گنوا سورج بار غم ڈال کر زمانے پر خوب لیتا رہا مزا سورج جان دے کر بھی راہ سے ...

مزید پڑھیے

رنگیں ادائے دہر کی گردن مروڑ دو

رنگیں ادائے دہر کی گردن مروڑ دو ناسور زندگی ہے تو زخموں کو پھوڑ دو افسردہ راہگیر کا ہے یہ سکوں رسا پیپل کی سمت سے ذرا تیشے کو موڑ دو ہے ناز سنگ کو کہ وہی اک ہے وجہ زخم شیشے کو آج اس کے مقابل میں چھوڑ دو یادوں کی شب یہ کہتی ہے انوار صبح سے زندہ نقوش ہوں گے تسلسل کو توڑ دو گر چاہو ...

مزید پڑھیے

لگتا ہے بحر شب بڑا پر آب دیکھنا

لگتا ہے بحر شب بڑا پر آب دیکھنا تم کو ڈبو نہ دے کہیں یہ خواب دیکھنا سرسبز کر لو کھیتیاں احساس کی ذرا ہے پر فروغ فکر کا مہتاب دیکھنا غم کا لبادہ اوڑھ کے آؤ نہ تم ادھر ہر برگ گل چمن کا ہے شاداب دیکھنا یادوں کے سبز پودے اگانے دو مجھ کو تم کشت امید کے ہیں یہ اسباب دیکھنا رکھنا قدم ...

مزید پڑھیے

ستم دوست فکر عداوت کہاں تک

ستم دوست فکر عداوت کہاں تک کہاں تک وفا سے بغاوت کہاں تک خلاف سلوک محبت کے خوگر خلاف سلوک محبت کہاں تک مسلسل ستم کی حکومت کے بانی مسلسل ستم کی حکومت کہاں تک اٹھو درد کی جستجو کر کے دیکھیں تلاش سکون طبیعت کہاں تک کبھی حکم پیر مغاں بھی بجا لا فقط اتباع شریعت کہاں تک کبھی کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں

یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں وہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوں زمانہ پہلے مجھ کو ڈھونڈتا ہے مگر تیرا پتا ہے میں نہیں ہوں ترے ہوتے مری ہستی کا کیا ذکر یہی کہنا بجا ہے میں نہیں ہوں صدائے نحن اقرب کہہ رہی ہے کہ تو مجھ سے جدا ہے میں نہیں ہوں وہ خود تشریف فرمائے جہاں ہیں تمہیں دھوکا ہوا ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں

نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں مسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں ادھر پہلو سے وہ اٹھے ادھر دنیا سے ہم اٹھے چلو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی بیکار بیٹھے ہیں کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں جو اٹھے ہیں تو گرم جستجوئے ...

مزید پڑھیے

حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا

حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا جو بنانا ہو بنا لیکن کسی قابل بنا شوق کے لائق بنا ارمان کے قابل بنا اہل دل بننے کی حسرت ہے تو دل کو دل بنا عقدہ تو بے شک کھلا لیکن بہ صد دقت کھلا کام تو بے شک بنا لیکن بہ صد مشکل بنا جب ابھارا ہے تو اپنے قرب کی حد تک ابھار جب بنایا ہے تو اپنے لطف ...

مزید پڑھیے

گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ

گنگ ہیں ساری زمینیں آسماں حیرت زدہ رفتگاں ششدر سبھی آئندگاں حیرت زدہ چوس لیتی ہے زمیں پانی جہاں ہوں نفرتیں خشک ہوتی نہر پہ مت ہوں کساں حیرت زدہ کون گھر کا ہے یہ دھوون کس کی ہے یخ بستگی برف ہوتی اس ندی کا سب دھواں حیرت زدہ اس تحیر خیز شہر نور کی ہر شے عجب ہر یقیں حیرت زدہ ہر اک ...

مزید پڑھیے

رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے

رنگ کے گہرے تھے لیکن دور سے اچھے لگے ادھ کھلی ان کھڑکیوں پر جامنی پردے لگے خشک ہوتی بیل سے دیوار چھوٹی دفعتاً زرد پتوں کو بچاتے پھول خود گرنے لگے پکے رشتوں میں دراڑوں کی کہانی کھل گئی ڈوبنے والے کو سارے ہی گھڑے کچے لگے اک تخیل جسم اوڑھے آن بیٹھا سامنے لفظ بھی اب سوچ کو تصویر ...

مزید پڑھیے

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے

صاف اوراق ہیں لکھنے کی جگہ خالی ہے یعنی اس مانگ میں تارے کی جگہ خالی ہے نہر کے پار گیا یار نہیں پلٹا کبھی کار میں اب بھی کمینے کی جگہ خالی ہے کوئی خوش رنگ دلاسہ ہے تو لکھتے جاؤ میری دیوار پہ نعرے کی جگہ خالی ہے آج بھی کھاٹ پہ بوسیدہ بدن دیکھتا ہوں باپ کے بعد بھی کونے کی جگہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3843 سے 4657