عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی
عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی وہ ذرا خوف جہاں دل سے مٹائے تو سہی کیسے اٹھتے ہیں قدم دیکھیے منزل کی طرف دل کے ارشاد پہ سر کوئی جھکائے تو سہی اس کے قدموں میں رفاقت کے خزانے ہوں گے میری جانب وہ قدم اپنے بڑھائے تو سہی جذبۂ جوش محبت تجھے سو بار سلام میری آہٹ پہ وہ دہلیز تک آئے تو ...