شاعری

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی

عاشقی جرأت اظہار تک آئے تو سہی وہ ذرا خوف جہاں دل سے مٹائے تو سہی کیسے اٹھتے ہیں قدم دیکھیے منزل کی طرف دل کے ارشاد پہ سر کوئی جھکائے تو سہی اس کے قدموں میں رفاقت کے خزانے ہوں گے میری جانب وہ قدم اپنے بڑھائے تو سہی جذبۂ جوش محبت تجھے سو بار سلام میری آہٹ پہ وہ دہلیز تک آئے تو ...

مزید پڑھیے

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے

کہیں پر زندگی کا نام نامی موج مستی ہے کہیں پر آدمیت زندہ رہنے کو ترستی ہے جہان زندگی کی قدرتی تصویر ہیں دونوں کہیں سوکھا پڑا ہے اور کہیں بارش برستی ہے تری دولت تجھے کیا فیض پہنچائے گی تیرے بعد میسر زندگی جتنی بھی قیمت پر ہو سستی ہے کسی قابل میں ہوتا تو کبھی کا قتل ہو جاتا کہ ہر ...

مزید پڑھیے

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا

نرغے میں گھٹاؤں کے رہا ہے نہ رہے گا خورشید محبت کا چھپا ہے نہ چھپے گا ہو جاتے ہیں ناکام خرد مندوں کے فتنے سر اہل جنوں کا نہ جھکا ہے نہ جھکے گا تم کیوں ہو پریشان کہ تقدیر کا لکھا دنیا کے مٹانے سے مٹا ہے نہ مٹے گا ترکش سے تکبر کے جو اترا کے چلا ہے وہ تیر نشانے پہ لگا ہے نہ لگے ...

مزید پڑھیے

اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح

اک پر کشش کہانی کے کردار کی طرح ہر شخص جی رہا ہے اداکار کی طرح میں چل رہا ہوں بادل نا خواستہ مگر حالات کی گرفت میں پتوار کی طرح جو پھول سے بھی ہلکا تعلق تھا ان دنوں لگنے لگا ہے کوہ گراں بار کی طرح یہ مصلحت نہیں ہے تو پھر ان کے سامنے خاموش کیوں کھڑے ہو گنہ گار کی طرح طالبؔ ...

مزید پڑھیے

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں

دست و پا میں مرے حلقے جو یہ زنجیر کے ہیں در حقیقت یہ کرشمے مری تقدیر کے ہیں قابل داد نہیں کیا وہ مصور لوگو شہر در شہر جو چرچے کسی تصویر کے ہیں تشنہ لب جو لب دریا پہ بھی ہیں رہتے ہوئے وہ ستائے ہوئے بگڑی ہوئی تقدیر کے ہیں حوصلہ فتح کا ضامن ہوا کرتا ہے مگر میرے دشمن ہیں کہ قائل مری ...

مزید پڑھیے

حدیث دل بیاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے

حدیث دل بیاں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کسی کو راز داں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی ہے جس کے دل میں آج تک ہم گھر نہ کر پائے کسی کو مہرباں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے وہ جادوگر کی صورت جھوٹ کو سچ کر دکھاتے ہیں کسی کو بد گماں کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے کوئی تو کشمکش ہے دل میں شاید حشر ...

مزید پڑھیے

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا تجھ سے کہنے کی کوئی بات نہ کرنا تجھ سے کنج تنہائی میں بس خود کو علامت کرنا اک بگولے کی طرح ڈھونڈتے پھرنا تجھ کو روبرو ہو تو نہ شکوہ نہ شکایت کرنا ہم گدایان وفا جانتے ہیں اے در حسن عمر بھر کار ندامت پہ ندامت ...

مزید پڑھیے

برگ گل شاخ ہجر کا کر دے

برگ گل شاخ ہجر کا کر دے اے خدا اب مجھے ہرا کر دے ہر پلک ہو نم آشنا مجھ سے میرا لہجہ بہار سا کر دے مجھ کو روشن مرے بیان میں کر خامشی کو بھی آئنا کر دے بیٹھ جاؤں نہ تھک کے مثل غبار دشت میں صورت صبا کر دے میری تکمیل حرف و صوت میں ہو مجھے پابند التجا کر دے کون دستک پہ کان دھرتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

ہوا کے رخ پہ رہ اعتبار میں رکھا

ہوا کے رخ پہ رہ اعتبار میں رکھا بس اک چراغ کوئے انتظار میں رکھا عجب طلسم تغافل تھا جس نے دیر تلک مری انا کو بھی کنج خمار میں رکھا اڑا دیے خس و خاشاک آرزو سر راہ بس ایک دل کو ترے اختیار میں رکھا نہ جانے کون گھڑی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے اٹھا کے شیشۂ جاں اس غبار میں رکھا یہ کس نے ...

مزید پڑھیے

عشاق بہت ہیں ترے بیمار بہت ہیں

عشاق بہت ہیں ترے بیمار بہت ہیں تجھ حسن دل آرام کے حق دار بہت ہیں اے سنگ صفت آ کے سر بام ذرا دیکھ اک ہم ہی نہیں تیرے طلب گار بہت ہیں بے چین کئے رکھتی ہے ہر آن یہ دل کو کم بخت محبت کے بھی آزار بہت ہیں مٹی کے کھلونے ہیں ترے ہاتھ میں ہم لوگ اور گر کے بکھر جانے کے آثار بہت ہیں لکھیں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3831 سے 4657