شاعری

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے گھر کا گھر ہی جہاں بازار میں آ سکتا ہے کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے مجھ کو معلوم ہے دریاؤں کا کف ہے تجھ میں تو مرے موجۂ پندار میں آ سکتا ہے اے ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرنے والے بل کبھی وقت کی رفتار میں ...

مزید پڑھیے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے

کسے خبر کہ ہے کیا کیا یہ جان تھامے ہوئے زمین تھامے ہوئے آسمان تھامے ہوئے فضائیں کچھ بھی نہیں ہیں فقط نظر کا فریب کھڑا ہوا ہے کوئی آسمان تھامے ہوئے سفینہ موجۂ سیل بلا سے گرم ستیز ہوا کا بار گراں بادبان تھامے ہوئے گرا ہے کوئی جری اے فصیل شہر تباہ مزاحمت کا دریدہ نشان تھامے ...

مزید پڑھیے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے

زمیں کی خاک تو افلاک سے زیادہ ہے یہ بات پر ترے ادراک سے زیادہ ہے یہ آفتاب اسے دھوپ میں جلا دے گا جو چھاؤں پیڑ کی پوشاک سے زیادہ ہے خیال آتا ہے اکثر اتار پھینکوں بدن کہ یہ لباس مری خاک سے زیادہ ہے چھلک اٹھا ہوں اگر ساری کائنات سے میں تو کیا یہ خاک ترے چاک سے زیادہ ہے لباس دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے

وقت نے لوٹے ہیں ہستی کے خزانے کتنے خاک کا ڈھیر ہوئے قصر نہ جانے کتنے خواب احساس نظر یاد تصور دھڑکن میں نے تیرے لئے رکھے ہیں ٹھکانے کتنے آج منزل پہ پہنچ کر مجھے احساس ہوا راہ میں چھوٹ گئے دوست پرانے کتنے دل وہ پنچھی ہے کبھی دام میں آتا ہی نہیں چوک جاتے ہیں نگاہوں کے نشانے ...

مزید پڑھیے

دل پہ یادوں کا بوجھ طاری ہے

دل پہ یادوں کا بوجھ طاری ہے آج کی رات کتنی بھاری ہے قید کی طرح کاٹتے ہیں سب کس نے یہ زندگی گزاری ہے سر چھپا کر ترے دوپٹے میں خوشبوؤں نے تھکن اتاری ہے ایسی بھینی مہک ہے باتوں میں جیسے تازہ گلوں کی کیاری ہے دل لگی لمحہ بھر کی ہے لیکن زندگی بھر کی بے قراری ہے زلف و رخسار کی ضیا لے ...

مزید پڑھیے

دل کو رہین لذت درماں نہ کر سکے

دل کو رہین لذت درماں نہ کر سکے ہم ان سے بھی شکایت ہجراں نہ کر سکے اس طرح پھونک میرا گلستان آرزو پھر کوئی تیرے بعد اسے ویراں نہ کر سکے مہنگی تھی اس قدر ترے جلووں کی روشنی ہم اپنی ایک شام فروزاں نہ کر سکے بچھڑے رہے تو اور بھی رسوا کریں گے لوگ تم بھی علاج گردش دوراں نہ کر سکے دل ان ...

مزید پڑھیے

دل نے چاہا تھا جسے اپنے سہارے کی طرح

دل نے چاہا تھا جسے اپنے سہارے کی طرح غم اسی شخص کا بھڑکا ہے شرارے کی طرح تیرا احسان نہ بھولوں گا غم یار کہ تو روز سجتا ہے مری آنکھ میں تارے کی طرح کتنے الہام کے رنگوں سے رنگا ہے چہرہ جس کو پڑھتا ہوں میں قرآن کے پارے کی طرح شعلہ لپکا ہے ترے حسن کا ایسے بھی کبھی شعر میرے بھی ہوئے ...

مزید پڑھیے

ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے

ہجر کا دن ہے یہ گزرنے دے اے غم یار شام ڈھلنے دے عمر تھوڑی ہے پیاس صدیوں کی شبنمی رت سکوں سے مرنے دے اس نے مانگا ہے مجھ سے اک تحفہ اب تو جاں ہی یہ نذر کرنے دے ہو جو ممکن تو ابر برسا دے حدت غم میں ورنہ جلنے دے جذبۂ شوق لو بھی دے گا اسے پیکر صبر میں تو ڈھلنے دے کوئی لمحہ تو ہو سخی ...

مزید پڑھیے

خود سے ملنے کی جستجو تم ہو

خود سے ملنے کی جستجو تم ہو جس پہ مرتا ہوں خوبرو تم ہو ناز کرتا ہوں آج میں دل پر دل ہے میرا تو آرزو تم ہو ہر گھڑی خود کو بھول جاتا ہوں ہر گھڑی میرے روبرو تم ہو جان مضطر کی بے قراری میں جب بھی دیکھا ہے چار سو تم ہو خامشی بھی کلام کرتی ہے گونگے سپنوں کی گفتگو تم ہو

مزید پڑھیے

آج میری پلکوں پر قدسیوں کا میلہ ہے

آج میری پلکوں پر قدسیوں کا میلہ ہے عشق تیری محفل میں دل کہاں اکیلا ہے حوریں تیری یادوں کی جنتیں سجاتی ہیں ان سے آج یہ کہہ دو زندگی جھمیلا ہے آئینہ سنورتا ہے ان کے دیکھے جانے سے رنگ و نور کہتا ہے روشنی کا ریلا ہے درد دل کو بھاتے ہیں جانے کیوں لبھاتے ہیں آنکھ کے ستاروں کا سجتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3823 سے 4657