کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے
کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے گھر کا گھر ہی جہاں بازار میں آ سکتا ہے کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے مجھ کو معلوم ہے دریاؤں کا کف ہے تجھ میں تو مرے موجۂ پندار میں آ سکتا ہے اے ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرنے والے بل کبھی وقت کی رفتار میں ...