شاعری

ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیا

ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیا کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبا پا گئی کیا یہ وہی میرا نگر ہے تو مرے یار یہاں ایک بستی مرے پیاروں کی تھی کام آ گئی کیا میری سرحد میں غنیموں کا گزر کیسے ہوا تھی سروں کی وہ جو دیوار کھڑی ڈھا گئی کیا یوں تو کہنے کو بس اک موج تھی پانی کی مگر دیکھنا ...

مزید پڑھیے

جان اسے چلانے میں اہرمن کی کھپتی ہے

جان اسے چلانے میں اہرمن کی کھپتی ہے رات دن مگر دنیا نام تیرا جپتی ہے روشنی کے جلوے ہیں پھلتے پھولتے جنگل جن کی چھتر چھایا میں تیرگی پنپتی ہے گونج سی یہاں شب بھر تم جو روز سنتے ہو دشت کی پناہوں میں خامشی تڑپتی ہے کیا کہا کہو تو پھر دھیان حسن سیرت کا اے میاں مری مانو چھاپ لو جو ...

مزید پڑھیے

رہے خرام سلامت ندی کے دھاروں کا

رہے خرام سلامت ندی کے دھاروں کا نکل نہ جائے کہیں دم مگر کناروں کا تھا اضطراب و تمنائے دید گل کا کرم بہت کٹھن تھا سفر ورنہ خارزاروں کا ستا رہی ہے دل شب کو کل کے چاند کی یاد اڑا اڑا سا ہے کچھ آج رنگ تاروں کا جو خوش ہے ایک تو اس کی وفا کے چرچے ہیں دکھائے دل وہ جہاں میں بھلے ہزاروں ...

مزید پڑھیے

ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھنا

ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھنا سوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھنا برا سہی میں پہ نیت بری نہیں میری مرے گناہ بھی کار ثواب میں لکھنا رہا سہا بھی سہارا نہ ٹوٹ جائے کہیں نہ ایسی بات کوئی اضطراب میں لکھنا یہ اتفاق کہ مانگا تھا ان سے جن کا جواب وہ باتیں بھول گئے وہ جواب میں ...

مزید پڑھیے

باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہت

باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہت دل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہت یاد اب اس کی آ نہ سکے گی سوچ کے یہ بیٹھے تھے کہ بس کھل گئے دل کے سارے دریچے تھا جو ہوا کا زور بہت موجیں ہی پتوار بنیں گی طوفاں پار لگائے گا دریا کے ہیں بس دو ساحل کشتی کے ہیں چھور بہت میں بھی اپنی ...

مزید پڑھیے

خود پرستی کا نشہ مجھ کو چڑھا ہے آج کل

خود پرستی کا نشہ مجھ کو چڑھا ہے آج کل شوق تجھ سا ہونے کا مجھ کو ہوا ہے آج کل کل تلک تھا جو وفا کی سلطنت کا پیشوا شور اس کی بے وفائی کا بپا ہے آج کل باغباں تو کچھ سوالوں کی اجازت دے مجھے کس کی غفلت سے چمن اجڑا پڑا ہے آج کل دب گئی ہے روبرو قاضی کی چیخوں کی صدا رہزنوں کو منصفوں کا ...

مزید پڑھیے

تو مری جستجو مسلسل ہے

تو مری جستجو مسلسل ہے شامل گفتگو مسلسل ہے مجھ پہ طاری خمار کی گھڑیاں تو مرے روبرو مسلسل ہے ذرہ ذرہ گواہی دیتا ہے جا بجا تو ہی تو مسلسل ہے عشق مجھ کو اڑائے پھرتا ہے چاکری کو بہ کو مسلسل ہے اک معطر فضا رچی مجھ میں بس گیا مجھ میں تو مسلسل ہے وجد طاری عروسہؔ سانسوں پر شش جہت ہو ہی ...

مزید پڑھیے

رنج و الم ستائے تو کہتی ہوں میں غزل

رنج و الم ستائے تو کہتی ہوں میں غزل فرقت جو جاں جلائے تو کہتی ہوں میں غزل چپ چاپ سونی رات میں یادوں کا رقص ہو دل شور جب مچائے تو کہتی ہوں میں غزل دھڑکن کا زور ٹوٹے کہ جذبے ہوں قید میں جب جان پھڑپھڑائے تو کہتی ہوں میں غزل کوئی نہیں ہے آسرا دنیا میں اب مرا پر رب جو یاد آئے تو کہتی ...

مزید پڑھیے

آنکھ کو منظر منظر رونے والا ہے

آنکھ کو منظر منظر رونے والا ہے دل کا شیشہ پھر سے ٹوٹنے والا ہے پہلے چپ کو چپ کے ساتھ عداوت تھی اب یہ موسم خود سے جھڑنے والا ہے ایک محبت سے بھی دل گھبراتا ہے اب تو یہ سناٹا بولنے والا ہے خوشبو کی آزادی قادر کھلتا ہے کون ہوا کا دامن کھولنے والا ہے آنے والی رات پہ ہی موقوف ...

مزید پڑھیے

تیرے نام سے وحشت ہے بے زاری ہے

تیرے نام سے وحشت ہے بے زاری ہے نہ ملنے کی اپنے آپ سے باری ہے ہار سنگھار کی شرطیں پوری کر ڈالیں آئینہ کے رونے کی تیاری ہے گریہ گریہ سب تصویریں میری ہیں قریہ قریہ رونے میں سرشاری ہے سفر کی ساری دھول امانت ہے اس کی خاک اور ہجرت میں اس کی دل داری ہے ہم نے اپنا عشق نشیمن پھونک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 376 سے 4657