کس نے محبتوں کو عداوت میں رکھ دیا
کس نے محبتوں کو عداوت میں رکھ دیا دل کی بجھارتوں کو سفارت میں رکھ دیا چہرے کے سب نقوش زمانے کے ساتھ تھے اک دل تھا سو تمہاری عبادت میں رکھ دیا اپنا وجود کھو کے تمہیں پا لیا تو پھر کیوں اپنی چاہتوں کو ندامت میں رکھ دیا آنکھیں گنوا کے پوری طرح مطمئن نہ تھی اک سر بچا تھا وہ بھی محبت ...