شاعری

کس نے محبتوں کو عداوت میں رکھ دیا

کس نے محبتوں کو عداوت میں رکھ دیا دل کی بجھارتوں کو سفارت میں رکھ دیا چہرے کے سب نقوش زمانے کے ساتھ تھے اک دل تھا سو تمہاری عبادت میں رکھ دیا اپنا وجود کھو کے تمہیں پا لیا تو پھر کیوں اپنی چاہتوں کو ندامت میں رکھ دیا آنکھیں گنوا کے پوری طرح مطمئن نہ تھی اک سر بچا تھا وہ بھی محبت ...

مزید پڑھیے

پھیلی ہیں چار سو مرے کیونکر اداسیاں

پھیلی ہیں چار سو مرے کیونکر اداسیاں اک بحر بے اماں ہے یہ بنجر اداسیاں خوشیوں کے چار پل بھی اگر مل گئے تو کیا رہتی ہیں میری ذات کا محور اداسیاں اس شوخ کو خبر دو میں ایسی نہیں مگر جانے کیوں آج کل ہیں یہ دلبر اداسیاں خوشیوں کی سرزمین ہمیں راس ہی نہ تھی پھر پا رہے ہیں خود میں یہ کھو ...

مزید پڑھیے

میں صدا پرور کہیں مٹنے لگی ہوں شور سے

میں صدا پرور کہیں مٹنے لگی ہوں شور سے زندگی اب روک لے بٹنے لگی ہوں شور سے کیسے کہہ دوں خامشی سے اور اونچا کر مجھے میں محبت کی پتنگ کٹنے لگی ہوں شور سے پہلے تو آواز کا آسیب کھلتا ہی نہ تھا اب کھلا ہے یہ تو میں لڑنے لگی ہوں شور سے خامشی پھر سے دعا دے میری قامت کے لیے خامشی اب مان لے ...

مزید پڑھیے

تیرے آثار مٹانے میں بہت دیر لگی

تیرے آثار مٹانے میں بہت دیر لگی خود کو اس پار بلانے میں بہت دیر لگی تو مری ذات کا کھویا ہوا حصہ ہے کوئی تجھ کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی زندگی جس کی ہر اک تال پہ کرتی ہے دھمال دل کے وہ تار بجانے میں بہت دیر لگی آئینہ مجھ کو یوں دیکھے کہ سمٹتی جاؤں تیرے رنگوں کو بہانے میں بہت ...

مزید پڑھیے

دشت کو اس کی رہ بھٹکانا ٹھیک نہیں

دشت کو اس کی رہ بھٹکانا ٹھیک نہیں وحشت کا یوں آنا جانا ٹھیک نہیں وہ جو تیری یاد میں دھڑکے اور جیے ایسے دل سے واپس آنا ٹھیک نہیں بار نشاط سے اس دل کو مر جانے دو رو رو کر یوں جی بہلانا ٹھیک نہیں وہ تو عالم‌ شوق میں ہے محبوبہ کے دل مر جائے تو دفنانا ٹھیک نہیں درد کو اپنی حدت کا رنگ ...

مزید پڑھیے

خودی کے نام پہ اک جشن بے خودی کر لو

خودی کے نام پہ اک جشن بے خودی کر لو اندھیری رات میں کچھ اور روشنی کر لو یہ دشمنی تو مرے احترام میں گم ہے مرے رقیب کوئی مجھ سے دوستی کر لو کہاں تلک یہ بہاروں کی سرمدی دولت بہت تمام ہوئی اب تو زندگی کر لو یہ شور بڑھتا رہا گر تو بے قصور ہوں میں تجھے خبر تو ملے کوئی خامشی کر لو میں ...

مزید پڑھیے

بجھتی محبتوں کا دھواں پھیلنے لگا

بجھتی محبتوں کا دھواں پھیلنے لگا آنکھوں میں آ کے ابر کوئی سوچنے لگا جب خامشی کا زہر بھی اس نے اڑا لیا خوابوں میں آ کے ناگ کوئی بولنے لگا اب کے غم حیات کا نقشہ عجیب ہے آنکھوں میں اشک آ کے مجھے تولنے لگا یہ کس کی آنکھ مجھ پہ برابر لگی رہی یہ کون آئینے میں مجھے سوچنے لگا لکھا تھا ...

مزید پڑھیے

سو باتوں کی بات ہے پیارے وہ جو ذات میں ہوتی ہے

سو باتوں کی بات ہے پیارے وہ جو ذات میں ہوتی ہے ہر انسان کی عزت اس کے اپنے ہات میں ہوتی ہے کوئی عجب سا پہلو ہے جو دل میں گھر کر جاتا ہے کوئی الگ سی بات ہے جو اس کی ہر بات میں ہوتی ہے اس کی یاد بھی اس کی طرح الٹے وقتوں آتی ہے شام ڈھلے تک دور رہے اور پاس وہ رات میں ہوتی ہے کسی سے جھوٹے ...

مزید پڑھیے

مانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہے

مانتا نہیں میری حجتیں بھی کرتا ہے بات بات میں اپنی جدتیں بھی کرتا ہے آگ بھی لگاتا ہے آپ اپنے دامن میں پھر اسے بجھانے کو بارشیں بھی کرتا ہے عشق خود سے ہے اس کو اور خود ہی وہ پاگل اپنا آپ کھونے کی سازشیں بھی کرتا ہے دل میں جیتے رہنے کی آس بڑھتی رہتی ہے ساتھ ساتھ مرنے کی خواہشیں ...

مزید پڑھیے

ہو ترا عشق مری ذات کا محور جیسے

ہو ترا عشق مری ذات کا محور جیسے اسی احساس کی میں ہو گئی خوگر جیسے ایک ویرانی ترے لہجے سے آئی مجھ تک پھر وہی میرے اتر آئی ہو اندر جیسے کوئی بھی کام میرے حق میں نہیں ہو پاتا روٹھ کر بیٹھ گیا ہو یہ مقدر جیسے وہ کوئی وقت تھا جب دل تھا بڑا نازک سا اب تو سینے میں رکھا ہے کوئی پتھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 377 سے 4657