شاعری

سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہے

سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہے ٹھہرو کہ بچھڑ جانے کا پل آنے لگا ہے کہتے ہو تو لہجے کی کمر سیدھی نہ کر لوں مانا کہ مرے عجز پہ پھل آنے لگا ہے یہ کیا کہ ہر اک وقت کی بیزار سماعت ہر لفظ کی پیشانی پہ بل آنے لگا ہے لاؤ مری آواز کی دستار اٹھا کر کم ظرف کوئی حد سے نکل آنے لگا ہے لو ...

مزید پڑھیے

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں بنا بنایا تعلق بگاڑ لیتا ہوں میں نا سمجھ تو نہیں رنجشوں سے لڑتا پھروں میں رخ بدل کے محبت کی آڑ لیتا ہوں جو گرد ذہن پہ گرتی ہے بد گمانی کی میں گاہے گاہے اسے خود ہی جھاڑ لیتا ہوں میں راحتوں سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا میں سوچ سوچ کے خوشیاں اجاڑ ...

مزید پڑھیے

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا

کاغذ کب تک دھیان میں رکھا جائے گا آخر کوڑے‌ دان میں رکھا جائے گا آنکھوں کی اس بار رہائی ممکن ہے خوابوں کو زندان میں رکھا جائے گا سب کو دل کے کمرے تک کب لائیں گے کچھ لوگوں کو لان میں رکھا جائے گا باتوں سے جب پیٹ کا کمرہ بھر جائے تو پھر ان کو کان میں رکھا جائے گا جس کو چاہے ہونٹ ...

مزید پڑھیے

کسی خیال کی صورت میں اب گماں سے نکل

کسی خیال کی صورت میں اب گماں سے نکل سخن کا تیر ہے تو ہونٹ کی کماں سے نکل کبھی تو مجھ کو مرے عکس تک رسائی دے اے آئنے تو کسی روز درمیاں سے نکل چھپے ہوئے کوئی منظر مری نگاہ میں آ اے کوئی ان کہے مصرعے مری زباں سے نکل ترے سوا بھی بہت لوگ منتظر ہیں مرے سو اپنی چوٹ لگا اور داستاں سے ...

مزید پڑھیے

جو ہے مکان وہی لا مکان نکلے گا

جو ہے مکان وہی لا مکان نکلے گا زمیں تلے بھی کوئی آسمان نکلے گا اکیلا دھوپ کے لشکر میں گھر گیا پاگل جو سوچتا تھا کوئی سائبان نکلے گا یہ جن جو کام کا دفتر کے آ گیا مجھ پر بدن کو سونپ کے میری تکان نکلے گا کوئی تو ہے جو سدا ہے مرے تعاقب میں عدو نہیں تو کوئی مہربان نکلے گا جو جانتا ...

مزید پڑھیے

لکھی جب آسمان نے تقدیر خاک کی

لکھی جب آسمان نے تقدیر خاک کی مجھ کو تمام سونپ دی جاگیر خاک کی بھاتے نہیں ہیں آنکھ کو میری یہ تاج و تخت جاتی نہیں وجود سے تاثیر خاک کی پر کھول تو دئے مرے صیاد نے مگر پاؤں میں ڈال دی مرے زنجیر خاک کی آنا ہے اس کی قید میں ہر اک وجود نے لگنی ہے ہر وجود پہ تعزیر خاک کی لو خاکساری سے ...

مزید پڑھیے

اپنی دھن میں ہی جو چپ چاپ گزر جاتا ہوں

اپنی دھن میں ہی جو چپ چاپ گزر جاتا ہوں تم سمجھتے ہو بڑے شوق سے گھر جاتا ہوں لے کے چل پڑتا ہے مجھ کو جو خیالات کا رتھ جب ترے شہر میں پہنچے میں اتر جاتا ہوں اپنے ہی درد کی انگلی سے لگا رہنے دے میں غم دہر کی اس بھیڑ سے ڈر جاتا ہوں کوئی کس طرح مرے جسم میں آ جاتا ہے میں بدن چھوڑ کے اپنا ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے

جلتی بجھتی ہوئی آنکھوں میں ستارے لکھے باب لکھے نہیں عنوان تو سارے لکھے منظر غم تھا شفق رنگ کہاں عکس اترا خون کا رنگ لکھا شام کے پیارے لکھے نذر طوفان ہوئے سارے سفینوں کے چراغ وہ اندھیرے جو نگاہوں نے سہارے لکھے پیکر و رضا واقف رمز ہستی دست لمحات نے یوں نام ہمارے لکھے آگہی نے ...

مزید پڑھیے

فضا کا رنگ نکھرتا دکھائی دیتا ہے

فضا کا رنگ نکھرتا دکھائی دیتا ہے ہے شب تمام کہ سپنا دکھائی دیتا ہے لہو کا رنگ ہے مٹ کر بھی رنگ لائے گا افق کا رنگ سنہرا دکھائی دیتا ہے وہ جس نے دھوپ کے میلے کو چھت مہیا کی سڑک پہ اس کا بسیرا دکھائی دیتا ہے میں کون ہوں کہ ہے سب کانچ کا وجود مرا مرا لباس بھی میلا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا احتساب اس کا عمل تھا اس سے وہ فارغ ہوا وقت سڑکوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3759 سے 4657