غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے
غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے دیار سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے سمندروں میں بھی سورج نے بو دیئے ہیں سراب گئے تھے سیپ اٹھانے بھنور سمیٹا ہے صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی ہر ایک راہ میں زاد سفر سمیٹا ہے محبتوں نے دیا ہے صداقتوں کا شعور بکھر گیا ہے جب اک بار گھر سمیٹا ہے ہوا ...