قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا
قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا نا قابل عبور یہ دریا کبھی نہ تھا تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا ہے ذکر یار کیوں شب زنداں سے دور دور اے ہم نشیں یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا کمرے میں دل کے اس کے علاوہ کوئی نہیں حیران ہوں کہ ایسا ...