شاعری

قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا

قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھا نا قابل عبور یہ دریا کبھی نہ تھا تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا ہے ذکر یار کیوں شب زنداں سے دور دور اے ہم نشیں یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا کمرے میں دل کے اس کے علاوہ کوئی نہیں حیران ہوں کہ ایسا ...

مزید پڑھیے

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ دھڑک رہا ہے یہ دل کس رباب خواب کے ساتھ ہٹے غبار جو لو سے تو میری جوت جگے جلوں میں پھر سے نئی آب و تاب خواب کے ساتھ ہے سو اداؤں سے عریاں فریب رنگ انا برہنہ ہوتی ہے لیکن حجاب خواب کے ساتھ تو کیوں سزا میں ہو تنہا گناہ گار کوئی یہاں تو جیتے ہیں سب ...

مزید پڑھیے

گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسو

گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسو ہے در دل پہ کوئی سنگ گراں ہم نفسو رسنے لگتی ہیں جب آنکھوں سے تیزابی یادیں بات کرتے ہوئے جلتی ہے زباں ہم نفسو دل سے لب تک کوئی کہرام سا سناٹا ہے خود کلامی مجھے لے آئی کہاں ہم نفسو اک سبک موج ہے اک لوح درخشاں پہ رواں ہے تماشائی یہاں سارا جہاں ...

مزید پڑھیے

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو جانے کیا بات ہے دن رات خفا ہوتے ہو چپ رہیں وقت ملاقات خفا ہوتے ہو پوچھ لیں بھول سے حالات خفا ہوتے ہو بات غیروں سے تو ہنس ہنس کے کیا کرتے ہو ہم سے ہوتے ہی ملاقات خفا ہوتے ہو دور ہوتے ہو تو ناراض رہا کرتے ہو پاس رہتے ہو تو دن رات خفا ہوتے ہو جانتا ...

مزید پڑھیے

مری خود سے محبت بڑھ گئی ہے

مری خود سے محبت بڑھ گئی ہے بہت پنجرے سے وحشت بڑھ گئی ہے ہیں میرے خواب سارے موم کے بت مرے سورج تمازت بڑھ گئی ہے ہمارے بیچ بیداری ہی غم تھی بس اب نیندوں کی حاجت بڑھ گئی ہے یہ کیا بازار کیسے لوگ یوسف ادھر کیوں تیری رغبت بڑھ گئی ہے سنائی دیتا ہے سب ان کہا بھی تری دھن میں سماعت بڑھ ...

مزید پڑھیے

اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا

اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا محض اسیروں کی محصور زندگانی کیا رتیں جو تو نے اتاری ہیں خوب ہوں گی مگر ببول سیج پہ سجتی ہے گل فشانی کیا ہے جسم ایک تضادات کے کئی خانے کرے گا پر انہیں اک رنگ آسمانی کیا ہزار کروٹیں جھنکار ہی سناتی ہیں یوں جھٹپٹانے سے زنجیر ہوگی پانی ...

مزید پڑھیے

بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا

بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا دل کے چوتھے آسماں پر کون شب روتا رہا کیا عجب آواز تھی سوتے شکاری جاگ اٹھے پر وہ اک گھائل پرندہ جاں بہ لب روتا رہا جاتے جاتے پھر دسمبر نے کہا کچھ مانگ لے خالی آنکھوں سے مگر دل بے طلب روتا رہا میں نے پھر اپریل کے ہاتھوں سے دل کو چھو لیا اور دل ...

مزید پڑھیے

بہر چراغ خود کو جلانے والی میں

بہر چراغ خود کو جلانے والی میں دھوئیں میں اپنے کرب چھپانے والی میں ہریالی درکار اڑانیں بھی پیاری کدھر چلی میں کدھر تھی جانے والی میں دھنک رتوں کے جال بچھانے والا تو الجھ کے اپنا آپ گنوانے والی میں میری چپ کا جشن منانے والا تو تلواروں سے کاٹ چرانے والی میں پونجی سن کر سمٹ نہ ...

مزید پڑھیے

سمٹ گئی تو شبنم پھول ستارہ تھی

سمٹ گئی تو شبنم پھول ستارہ تھی بپھر کے میری لہر لہر انگارہ تھی کل تری خواہش کب اتنی بنجاری تھی تو سرتاپا آنکھ تھا میں نظارہ تھی میں کہ جنوں کے پروں پہ اڑتی خوشبو تھی رنگ رنگ کے آکار میں ڈھلتا پارہ تھی میں دھرتی ہوں اسے یہی بس یاد رہا بھول گیا میں اور بھی اک سیارہ تھی تو ہی تو ...

مزید پڑھیے

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا

میں تو پاگل ہوں مری آنکھ کے آنسو پہ نہ جا عشق بس خواب ہے اس خواب کے جادو پہ نہ جا اب پلٹ کر نہیں شہروں کو میں جانے والی مرے جنگل تو پریشانی و ہا ہو پہ نہ جا میں ترا رقص ہوں اس رقص کو پورا کر لے تھک کے یوں ٹوٹ کے گرتے ہوئے گھنگھرو پہ نہ جا گرمیٔ رقص کے تھمتے ہی تھمیں گے ہم سب حصۂ رقص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3758 سے 4657