تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی
تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی یوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھی معراج دید جلوۂ جاناں کبھی کبھی ہم بھی رہے ہیں نازش دوراں کبھی کبھی یہ اور بات ربط مسلسل نہ کہہ سکیں چوما ہے ہم نے دامن جاناں کبھی کبھی نقش خیال آپ کی تصویر بن گیا یہ معجزہ ہوا ہے نمایاں کبھی کبھی بندہ نوازئ ...