میں سب کچھ ان دیکھا کرنے لگتا ہوں
میں سب کچھ ان دیکھا کرنے لگتا ہوں
جب بھی اس کا پیچھا کرنے لگتا ہوں
خود کے شانے پہ ہی رکھ دیتا ہوں سر
ایسے دل کو ہلکا کرنے لگتا ہوں
خاموشی جب ظاہر ہونے لگتی ہے
تب میں شور شرابہ کرنے لگتا ہوں
نقش دست ملا ہے اور نہ نقش پا
کن راہوں کا پیچھا کرنے لگتا ہوں
وجہہ ہجر یار یہ دنیا ہو جیسے
جس سے دیکھو جھگڑا کرنے لگتا ہوں
سوچا تھا کہ عشق نہیں کرنا ہے اب
اور پہلے سے زیادہ کرنے لگتا ہوں
امی سوکھی روٹی یاد دلاتی ہے
جب میں پیسہ پیسہ کرنے لگتا ہوں
جھگڑا تو شدت سے کر لیتا ہوں پھر
پچھتاوے میں گریہ کرنے لگتا ہوں
کھول ہی لیتا ہوں یادوں کا البم میں
اور پھر رونا دھونا کرنے لگتا ہوں
سر سے دست و پا کا کام لیا میں نے
میں دیوانہ کیا کیا کرنے لگتا ہوں