عمر گزری اس کا چہرہ دیکھتے
عمر گزری اس کا چہرہ دیکھتے اور جی لیتے تو دنیا دیکھتے اس کے بعد آنکھوں کے ریشے کٹ گئے ہم نے اک دن اس کو دیکھا دیکھتے پانیوں کو پانیوں سے خوف تھا ورنہ ان آنکھوں سے دریا دیکھتے
عمر گزری اس کا چہرہ دیکھتے اور جی لیتے تو دنیا دیکھتے اس کے بعد آنکھوں کے ریشے کٹ گئے ہم نے اک دن اس کو دیکھا دیکھتے پانیوں کو پانیوں سے خوف تھا ورنہ ان آنکھوں سے دریا دیکھتے
جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے پھر بدن اور کہیں کام میں لانا ہے مجھے عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رک جاتا ہوں ورنہ تم ہو تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے میرے ہاتھوں کو خدا رکھے ترے جسم کی خیر مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے وہ جان نہ لے اور پھر جبر ...
جب بھی منزل ترے دامن میں سمٹ جاتی ہے زندگی خود کو بھی گمنام نظر آتی ہے جیسے سورج کی شعاعوں میں کوئی چاند چھپے کون روشن ہے کہ مشعل مری مٹ جاتی ہے ایک ساحل ہوں تو کیا میرا کوئی درد نہیں صرف کشتی پہ ہی کیوں سب کی نظر جاتی ہے ذہن کر بیٹھا تھا کل شکوہ شکایت دل سے میری دنیا میں بھی ...
جتنا سلجھاؤں میں اتنی ہی الجھ جاتی ہے زندگی کیسے مراحل پہ مجھے لاتی ہے مجھ کو جینے کی ہوس ہے کبھی مرنے کا جنوں زندگی میری شب و روز پھسل جاتی ہے خوب رشتہ ہے کبھی پاس کبھی دور ہے وہ زندگی اپنی ہے پر غیر نظر آتی ہے راستے بند ہیں منزل ہے نہ رہبر کوئی زندگی بھی تو اسی سمت چلی جاتی ...
گلہ تو ان کو بھی ہے میں جنہیں ملا ہی نہیں نہ جانے کتنے فسانوں میں ہوں پتا ہی نہیں کوئی تو پوچھے ذرا حال ان اندھیروں سے کہ جن کے پہلو میں سورج کبھی اگا ہی نہیں اسے ہے آج بھی رنج و ملال یہ مجھ سے کہ دل پہ اس کی کسی بات کو لیا ہی نہیں لو کھیل کھیل میں بننے کو بن گئی کشتی مگر مزاج ...
سرد موسم کی خطا تھی نہ زمانے کی تھی شمع کو جس نے بجھایا وہ ہوا میری تھی امتحاں روز لیا کرتا ہے میرا اب وہ آزمانے کی کبھی جس سے گزارش کی تھی کر چکا تھا میں سمندر سے کنارا کب کا جس جگہ ڈوبا تھا میں کہتے ہیں ساحل کی تھی ہجر و قربت کے بنے اتنے فسانے کیسے چاندنی چھت پے مری اتنی کہاں ...
مجھ کو اس سے نجات بھی نہ رہی پاس ہو کر جو پاس ہی نہ رہی علم تھا مجھ پہ جو گزرنا تھا گفتگو میں وہ بات ہی نہ رہی رات گزری ہے آج پھر تنہا آج بھی رات رات سی نہ رہی ہجر میں فاصلہ تو لازم تھا اب تو رشتے کی آس ہی نہ رہی رکھ کے مجھ کو کہیں وہ بھول گیا اور میری تلاش بھی نہ رہی چل بشرؔ خوں ...
دشت کی خاک بھی چھانی ہے گھر سی کہاں ویرانی ہے ایسی پیاس اور ایسا صبر دریا پانی پانی ہے کشتی والے ہیں مایوس گھٹنوں گھٹنوں پانی ہے کوئی یہ بھی سوچے گا کیسے آگ بجھانی ہے ہم نے چکھ کر دیکھ لیا دنیا کھارا پانی ہے ایک برس اور بیت گیا کب تک خاک اڑانی ہے
ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہے چراغ بجھنے سے انکار کرنے والا ہے خدا کرے کہ ترا عزم برقرار رہے زمانہ راہ میں دیوار کرنے والا ہے وہی دکھائے گا تجھ کو تمام داغ ترے جسے تو آئنہ بردار کرنے والا ہے یہ وار تو کبھی خالی نہیں گیا میرا کوئی تو اس کو خبردار کرنے والا ہے اسی نے رنگ بھرے ...
سب کے آگے نہیں بکھرنا ہے اب جنوں اور طرح کرنا ہے کیا ضرورت ہے اتنے خوابوں کی دشت شب پار ہی تو کرنا ہے آ گئے زندگی کے جھانسے میں ٹھان رکھا تھا آج مرنا ہے پوچھنا چاہیئے تھا دریا کو ڈوبنا ہے کہ پار اترنا ہے بینڈ باجا ہے تھوڑی دیر کا بس رات بھر کس نے رقص کرنا ہے