شاعری

قلم سے نکلے یا میرے خیال سے نکلے

قلم سے نکلے یا میرے خیال سے نکلے کوئی جواب تو اب اس سوال سے نکلے بہت کٹھن تھا بلندی پہ اتنا رہ پانا خدا کا شکر کہ ہم اس کمال سے نکلے مرے ہنر پہ بہت قرض ہے ترا ہمدم تمام شعر تمہارے خیال سے نکلے میں اور اس سے زیادہ بھی کیا گروں واحدؔ کوئی عروج تو اب اس زوال سے نکلے

مزید پڑھیے

سوچتے رہنا شب غم میں اضافت کرنا

سوچتے رہنا شب غم میں اضافت کرنا ہے دیا بن کے ہواؤں سے محبت کرنا ہم کو اس میں بھی زیارت کا مزہ ملتا ہے بیٹھے رہنا ترے چہرے کی تلاوت کرنا اس کی فرقت میں خود اپنے میں میں کھو جاتا ہوں اس کو کہتے ہیں امانت میں خیانت کرنا حسن جاناں پہ کچھ ایسی تھی جوانی آئی پڑ گیا ہم کو رفیقوں سے ...

مزید پڑھیے

دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں

دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں وہ صبر ہے ابھی نقصان بھی زیادہ نہیں وہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تجھ کو پا لے گا سو دیکھ صبر کا اعلان بھی زیادہ نہیں ہمیں نے حشر اٹھا رکھا ہے بچھڑنے پر وہ جان جاں تو پریشان بھی زیادہ نہیں تمام عشق کی مہلت ہے اس کی آنکھوں میں اور ایک لمحۂ امکان بھی ...

مزید پڑھیے

اس خرابی کی کوئی حد ہے کہ میرے گھر سے (ردیف .. ن)

اس خرابی کی کوئی حد ہے کہ میرے گھر سے سنگ اٹھائے در و دیوار نکل آتے ہیں کیا قیامت ہے کہ در قافلۂ رہرو شوق کچھ قیامت کے بھی ہموار نکل آتے ہیں اتنا حیران نہ ہو میری انا پر پیارے عشق میں بھی کئی خوددار نکل آتے ہیں اس قدر خستہ تنی ہے کہ گلے ملتے ہوئے اس کی بانہوں سے بھی ہم پار نکل ...

مزید پڑھیے

وقت کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات

وقت کی طاق پہ دونوں کی سجائی ہوئی رات کس پہ خرچی ہے بتا میری کمائی ہوئی رات اور پھر یوں ہوا آنکھوں نے لہو برسایا یاد آئی کوئی بارش میں بتائی ہوئی رات ہجر کے بن میں ہرن اپنا بھی میرا ہی گیا عسرت رم سے بہرحال رہائی ہوئی رات تو تو اک لفظ محبت کو لیے بیٹھا ہے تو کہاں جاتی مرے جسم پہ ...

مزید پڑھیے

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے

ہر ملاقات پہ سینے سے لگانے والے کتنے پیارے ہیں مجھے چھوڑ کے جانے والے زندگی بھر کی محبت کا صلہ لے ڈوبے کیسے ناداں تھے ترے جان سے جانے والے جان نکلی ہے تو دل اور بھی بھاری ہوا ہے سخت ہلکاں ہیں مری لاش اٹھانے والے اب جو بچھڑے تو شب ہجر مدام آئے گی سن میرے نادان مرے چھوڑ کے جانے ...

مزید پڑھیے

پگھلتے جسموں کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوں

پگھلتے جسموں کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوں میں چھو رہا ہوں جسے اسی سے ڈرا ہوا ہوں مجھے اسی ایک دکھ کی لت ہے اسی کو لاؤ میں تازہ زخموں کی تازگی سے ڈرا ہوا ہوں میں اپنے اندر کے شور سے خوف کھانے والا اب اپنے اندر کی خامشی سے ڈرا ہوا ہوں میں کس طرح اک سادا دل کو فریب دوں گا میں اس کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

مل ہی جانی تھی مناسب کوئی قیمت مجھ کو

مل ہی جانی تھی مناسب کوئی قیمت مجھ کو تو نے سمجھا ہے مگر مال غنیمت مجھ کو میری نیندیں ہی سبب ہیں مری بیداری کا میرے خوابوں سے ہی ہوتی ہے اذیت مجھ کو ایک رشتے کو بچانے کے لیے آٹھوں پہر کرنی پڑتی ہے امانت میں خیانت مجھ کو سوچتا ہوں کہ نکل آؤں میں باہر گھر سے ڈھونڈھتی پھرتی ہے کچھ ...

مزید پڑھیے

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول جیسے ترے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے اس کے بدن کا موڑ بڑا خوش گوار ہے ہم بھی سفر میں عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے اک ...

مزید پڑھیے

جنوں کے باب میں اب کے یہ رائیگانی ہو

جنوں کے باب میں اب کے یہ رائیگانی ہو میں ہوؤں اور مرا ہونا اک کہانی ہو یہ عشق راہبر منزل قیامت ہے وہ آئے ساتھ جسے زندگی گنوانی ہو کچھ اس لیے بھی تری آرزو نہیں ہے مجھے میں چاہتا ہوں مرا عشق جاودانی ہو مرے بدن پہ تو اب گرد بھی نہیں باقی اسے ہے ضد کہ مرا یار آسمانی ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 350 سے 4657