شاعری

داغ ہونے لگے ظاہر میرے

داغ ہونے لگے ظاہر میرے تیز کر رنگ مصور میرے میری آنکھوں میں سیاہی بھر دے یا ہرے کر دے مناظر میرے نقرئی جھیل بلاتی تھی انہیں پھنس گئے جال میں طائر میرے کون تحلیل ہوا ہے مجھ میں منتشر کیوں ہیں عناصر میرے ہے کہاں شنکھ بجانے والا کب سے خاموش ہیں مندر میرے سنگ سے جسم بھی کر اب ...

مزید پڑھیے

دل میں جب تک نہ بے کلی ہوگی

دل میں جب تک نہ بے کلی ہوگی کتنی بے جان زندگی ہوگی بات جو مجھ میں شور کرتی ہے مجھ سے کہنے کو رہ گئی ہوگی آج چہرے پہ ہے سکوں میرے جیت خود پر مری ہوئی ہوگی زندگی پر لگا نہ ہر الزام کچھ خطا تیری بھی رہی ہوگی دل میں کچھ کرنے کی تمنا رکھ زندگی ورنہ موت سی ہوگی بیتی باتوں پہ تو نہ رو ...

مزید پڑھیے

اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھا

اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھا وہی پڑھایا گیا مجھ کو جو نصاب میں تھا وہی تو دن تھے اجالوں کے پھول چننے کے انہیں دنوں میں اندھیروں کے انتخاب میں تھا بس اتنا یاد ہے کوئی بگولا اٹھا تھا پھر اس کے بعد میں صحرائے اضطراب میں تھا مری عروج کی لکھی تھی داستاں جس میں مرے زوال کا ...

مزید پڑھیے

دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم

دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہم بازگشت اپنی سن رہے ہیں ہم مدتیں ہو گئیں حساب کئے کیا پتا کتنے رہ گئے ہیں ہم جب ہمیں سازگار ہے ہی نہیں جسم کو پہنے کیوں ہوئے ہیں ہم رفتہ رفتہ قبول ہوں گے اسے روشنی کے لیے نئے ہیں ہم وحشتیں لگ گئیں ٹھکانے سب دشت کو راس آ گئے ہیں ہم دھن تو آہستہ بج ...

مزید پڑھیے

ذرا لو چراغ کی کم کرو مرا دکھ ہے پھر سے اتار پر

ذرا لو چراغ کی کم کرو مرا دکھ ہے پھر سے اتار پر جسے سن کے اشک چھلک پڑیں وہی دھن بجاؤ ستار پر ذرا حیرتوں سے نکل تو لوں ذرا ہوش آئے تو کچھ کہوں ابھی کچھ نہ پوچھ کہ کیا ہوا مرا دھیان ابھی ہے غبار پر کہیں حرف حرف گلاب ہے کہیں خوشبوؤں سے خطاب ہے میں خزاں نصیب سہی مگر مرا تبصرہ ہے بہار ...

مزید پڑھیے

کوئی اس کے برابر ہو گیا ہے

کوئی اس کے برابر ہو گیا ہے یہ سنتے ہی وہ پتھر ہو گیا ہے جدائی کا ہمیں امکان تو تھا مگر اب دن مقرر ہو گیا ہے سبھی حیرت سے مجھ کو تک رہے ہیں یہ کیا تحریر مجھ پر ہو گیا ہے اثر ہے یہ ہماری دستکوں کا جہاں دیوار تھی در ہو گیا ہے جسے دیکھو غزل پہنے ہوئے ہے بہت سستا یہ زیور وہ گیا ہے

مزید پڑھیے

زندگی کی ہنسی اڑاتی ہوئی

زندگی کی ہنسی اڑاتی ہوئی خواہش مرگ سر اٹھاتی ہوئی کھو گئی ریت کے سمندر میں اک ندی راستہ بناتی ہوئی مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے ایک تصویر مسکراتی ہوئی آ گئی خامشی کے نرغے میں زندگی مجھ کو گنگناتی ہوئی میں اسے بھی اداس کر دوں گا صبح آئی ہے کھلکھلاتی ہوئی ہر اندھیرا تمام ہوتا ...

مزید پڑھیے

پھر وہی شب وہی ستارہ ہے

پھر وہی شب وہی ستارہ ہے پھر وہی آسماں ہمارا ہے وہ جو تعمیر تھی تمہاری تھی یہ جو ملبہ ہے سب ہمارا ہے وہ جزیرہ ہی کچھ کشادہ تھا ہم نے سمجھا یہی کنارہ ہے چاہتا ہے کہ کہکشاں میں رہے میرے اندر جو اک ستارہ ہے

مزید پڑھیے

روز یہ خواب ڈراتا ہیں مجھے

روز یہ خواب ڈراتا ہے مجھے کوئی سایہ لیے جاتا ہے مجھے یہ صدا کاش اسی نے دی ہو اس طرح وہ ہی بلاتا ہے مجھے میں کھنچا جاتا ہوں صحرا کی طرف یوں تو دریا بھی بلاتا ہے مجھے دیکھنا چاہتا ہوں گم ہو کر کیا کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مجھے عشق بینائی بڑھا دیتا ہے جانے کیا کیا نظر آتا ہے مجھے

مزید پڑھیے

ہوا کے ساتھ یاری ہو گئی ہے

ہوا کے ساتھ یاری ہو گئی ہے دیے کی عمر لمبی ہو گئی ہے فقط زنجیر بدلی جا رہی تھی میں سمجھا تھا رہائی ہو گئی ہے بچی ہے جو دھنک اس کا کروں کیا تری تصویر پوری ہو گئی ہے ہمارے درمیاں جو اٹھ رہی تھی وہ اک دیوار پوری ہو گئی ہے قریب آ تو گیا ہے چاند میرے مگر ہر چیز دھندلی ہو گئی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 352 سے 4657