شاعری

تری جب نیند کا دفتر کھلا تھا

تری جب نیند کا دفتر کھلا تھا یقیناً ایک اک منظر کھلا تھا اسے تم چاند سے تشبیہ دینا کہ اس کے ہاتھ میں خنجر کھلا تھا سنا دیوار و در کیا کہہ رہے ہیں ہماری پیٹھ پر نشتر کھلا تھا نہیں کہ تنگ تھیں اپنی قبائیں تمہارے جسم کا پیکر کھلا تھا بدلتے موسموں کی تان ٹوٹی گھٹاؤں پر مرا ساغر ...

مزید پڑھیے

تیرے ملنے کی دعا کی جائے

تیرے ملنے کی دعا کی جائے درد کی کچھ تو دوا کی جائے خامشی اوڑھ رہا ہوں پل پل خالی برتن کی صدا کی جائے شاخ نے اوڑھ لیے ہیں پتے آؤ خود پر بھی قبا کی جائے چاند کو جس سے حیا آتی ہے جذب کیا اس کی ادا کی جائے خشک صحرا میں کہاں ہے پانی دفن جنگل میں انا کی جائے

مزید پڑھیے

شدت درد میں احساس کا کردار میاں

شدت درد میں احساس کا کردار میاں اپنے ہونے میں کہاں خود کا ہے اظہار میاں ہم بھی کھو ڈال رہے ہیں کہ بدل جائیں ذرا عقل بے بس کی سنے دل نہیں تیار میاں ڈھونڈ کچھ لوگ مقابل ہوں جہاں میں تیرے شہر ناقص میں کہاں ہم سے ہیں غم خوار میاں گنگنا بزم جہاں شہد شکر شہد شکر بات رکھتے ہیں لبوں پر ...

مزید پڑھیے

اس ایک شخص کا کوئی پتہ نہیں ملتا

اس ایک شخص کا کوئی پتہ نہیں ملتا کہ اس کے بعد تو کچھ بھی نیا نہیں ملتا وہ آئنہ سے بھی نظریں چرا رہا ہوگا کہ اس کا روپ ہی اس سے ذرا نہیں ملتا وہ دھوپ چھاؤں کرے کہکشاں بہار کرے وہ عرض و طول کے اندر بندھا نہیں ملتا وہ جسم روح خلا آسمان ہے کیا ہے کہ رنگ کوئی ہو اس سے جدا نہیں ...

مزید پڑھیے

آگ کا دریا پار کرے ہو

آگ کا دریا پار کرے ہو موت کا کاروبار کرے ہو ہنسنا مشکل رونا مشکل خود کو یوں لاچار کرے ہو آنکھیں کھولو سادھو بابا ترک یہ کیوں سنسار کرے ہو دل کے بدلے پاگل ہو کیا سانسوں کا بیوپار کرے ہو کھلرؔ جی تم راہ کو اپنی دو دھاری تلوار کرے ہو

مزید پڑھیے

میرا وہم و گمان رہنے دے

میرا وہم و گمان رہنے دے سن مجھے بے زبان رہنے دے درد دل کامران رہنے دے اے محبت جوان رہنے دے مجھ میں اونچی اڑان رہنے دے میری حسرت جوان رہنے دے مردہ لوگوں کی بستیاں ویراں میرے جذبوں میں جان رہنے دے جا بجا جمع سورجوں کی بھیڑ مان اے آسمان رہنے دے ایک چپ سی لگی ہوئی اچھی رہنے دے ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ شور سا برپا ہوا اچھا لگا

لمحہ لمحہ شور سا برپا ہوا اچھا لگا خامشی کی تان ٹوٹی واہمہ اچھا لگا آنکھوں آنکھوں میں ہوا اک حادثہ اچھا لگا ملنے والے کیوں تجھے یہ فاصلہ اچھا لگا کون جانے کون بوجھے داستاں در داستاں کچھ ہوا کا کچھ دئے کا حوصلہ اچھا لگا جان کی بازی لگا دی بھید کے کھلنے تلک عشق والوں کو ہمارا ...

مزید پڑھیے

میرے دکھ کی دوا بھی رکھتا ہے

میرے دکھ کی دوا بھی رکھتا ہے خود کو مجھ سے جدا بھی رکھتا ہے مانگتا بھی نہیں کسی سے کچھ لب پہ لیکن دعا بھی رکھتا ہے ہاں چلاتا ہے آندھیاں لیکن موسموں کو ہرا بھی رکھتا ہے جب بھی لاتا ہے غم پرانے وہ ان میں حصہ نیا بھی رکھتا ہے

مزید پڑھیے

وقت کی انگلی پکڑے رہنا اچھا لگتا ہے

وقت کی انگلی پکڑے رہنا اچھا لگتا ہے ہم کو چلتے پھرتے رہنا اچھا لگتا ہے ایک سمندر لاکھوں دریا دل میں اک طوفان شام و سحر یوں ملتے رہنا اچھا لگتا ہے کتنی راتیں سوتے سوتے گزریں خوابوں میں لیکن اب تو جگتے رہنا اچھا لگتا ہے سچ کے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہوں آگ کی لپٹیں اوڑھے رہنا ...

مزید پڑھیے

آگ دریا کو اشاروں سے لگانے والا

آگ دریا کو اشاروں سے لگانے والا اب کے روٹھا ہے بہت مجھ کو منانے والا میرے چہرے پہ نئی شام کھلانے والا جانے کس اور گیا بزم سجانے والا نیند ٹوٹے تو اسے دیکھ کے آؤں میں بھی وہ ہے آنکھوں میں نئے خواب سجانے والا رات آنکھوں میں کٹی دن کو رہی بے چینی کیسا ہم درد ہوا درد مٹانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 348 سے 4657