Mohammad Haneef Katib

محمد حنیف کاتب

محمد حنیف کاتب کی غزل

    کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا

    کہکشاں پھول صبا اور نہ جانے کیا کیا ہم ترے شہر کو لائے ہیں سجانے کیا کیا بیش قیمت ہے تری خاک جواہر سے بھی دفن آغوش میں تیرے ہیں خزانے کیا کیا ہفت رنگی ہے ترا پیرہن دل آویز تو نے دیکھے ہیں دھنک رنگ زمانے کیا کیا میری آنکھوں میں سمٹ آئے ہیں منظر کیسے میرے ہونٹوں پہ مچلتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی

    روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی نت نئے جلوے دکھاتا ہے کوئی چین سے کب مجھے سونا ہے نصیب وقت بے وقت بلاتا ہے کوئی بند ہے سلسلۂ آمد و رفت کوئی آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی بارہا مجھ کو جلانے کے لئے بارہا مجھ کو بجھاتا ہے کوئی جاتے جاتے تو رلاتے ہیں سبھی آتے آتے بھی رلاتا ہے کوئی داخلے ...

    مزید پڑھیے

    تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے

    تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے وہ زمانے کا ستایا ہوا ہے آج لگتا ہے قیامت کی طرح آج اپنا بھی پرایا ہوا ہے تیرا پیغام ادھورا سا لگا ایسا لگتا ہے مٹایا ہوا ہے ایسی رنگت کہیں دیکھی نہ سنی کچھ تو میدے میں ملایا ہوا ہے تیرے وحشی نے گلابی رت میں آسماں سر پہ اٹھایا ہوا ہے دیس پردیس بھٹکتا ...

    مزید پڑھیے

    ساتھ وہ آخر شب تک رہتا

    ساتھ وہ آخر شب تک رہتا چاند رہتا بھی تو کب تک رہتا یا چلا آتا وہاں سے اٹھ کر یا وہیں عرض طلب تک رہتا ایسے محفل میں نہ ہوتے بدنام مدعا لرزش لب تک رہتا اس پہ کھل جاتے جنوں کے اسرار وہ اگر شور و شغب تک رہتا پیش قدمی کی دعائیں دیتا اک نگہبان عقب تک رہتا پہلی فرصت میں نکل آنا ...

    مزید پڑھیے

    اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں

    اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں ہم تری آگ میں جلنے کے لئے آئے ہیں کون کہتا ہے سنبھلنے کے لئے آئے ہیں ہم تو سرکار مچلنے کے لئے آئے ہیں ہم کہیں اور سے آئے ہیں یہاں پر ویسے اور یاں سے بھی نکلنے کے لئے آئے ہیں وادئ گل کا پتہ پوچھنے آئے ہیں یہاں اور یہاں پھولنے پھلنے کے لئے آئے ...

    مزید پڑھیے

    مقابل عکس کے دیکھو کوئی تصویر بھی ہوگی

    مقابل عکس کے دیکھو کوئی تصویر بھی ہوگی جہاں پر خواب رکھے تھے وہیں تعبیر بھی ہوگی سمندر تک پہنچ جاؤ تو اتنا دھیان میں رکھنا سمندر پار کرنے کی کوئی تدبیر بھی ہوگی مری تقصیر الفت پر تو فرد جرم جائز تھی مگر یہ کیا پتہ تھا شہر میں تشہیر بھی ہوگی تمہارے آستانے تک پہنچنا ہی پہنچنا ...

    مزید پڑھیے

    سلسلے فکر و فن کے تھے ہی نہیں

    سلسلے فکر و فن کے تھے ہی نہیں ہم تو اس انجمن کے تھے ہی نہیں کون اپنا ہی گھر اجاڑتا ہے باغباں وہ چمن کے تھے ہی نہیں کیوں پلٹ کر ادھر نہیں دیکھا کیا بلاوے وطن کے تھے ہی نہیں مطمئن تھے درون شہر پناہ ہم سپاہی تو رن کے تھے ہی نہیں سب نوشتے تو ہم نے دیکھ لئے وہ حوالے متن کے تھے ہی ...

    مزید پڑھیے

    کیا مقدر ہے ٹھہرے پانی کا

    کیا مقدر ہے ٹھہرے پانی کا حکم آتا نہیں روانی کا ساعت سبز منبع انوار کوئی عنواں مری کہانی کا کوئی پتھر اچھال کر دیکھو شور ہوگا تو ہوگا پانی کا شور کرتا وجود فانی میں ایک سناٹا لا مکانی کا محل تھا ایک دو تھے شہزادے ایک راجہ کا ایک رانی کا ساحلوں ساحلوں گزر جائیں کوئی موسم تو ...

    مزید پڑھیے

    اس کا ہونا بھی نہ ہونے جیسا

    اس کا ہونا بھی نہ ہونے جیسا کیسا پانا کہ ہے کھونے جیسا بانس کے پاؤں لگا رکھے ہیں ویسے قد اس کا ہے بونے جیسا اک عجب عالم بے خوابی ہے جاگنے جیسا نہ سونے جیسا نیند پریوں کی اڑانوں جیسی خواب بچوں کے کھلونے جیسا معتکف ہونے کو ڈھونڈوں گوشہ حرم پاک کے کونے جیسا کار دشوار کوئی یوں ...

    مزید پڑھیے

    حصہ مرے مکان کا مجھ کو بھی چاہئے

    حصہ مرے مکان کا مجھ کو بھی چاہئے اک گوشہ آسمان کا مجھ کو بھی چاہئے تم کو بھی چاہئے تو چلو بانٹ لیتے ہیں سایہ تو سائبان کا مجھ کو بھی چاہئے مجھ کو بھی دیکھنا ہے کہاں ہے مرا مکان نقشہ ترے جہان کا مجھ کو بھی چاہئے ہلکان ہو رہا ہوں میں تیرے فراق میں ہرجانہ میری جان کا مجھ کو بھی ...

    مزید پڑھیے