کیا مقدر ہے ٹھہرے پانی کا

کیا مقدر ہے ٹھہرے پانی کا
حکم آتا نہیں روانی کا


ساعت سبز منبع انوار
کوئی عنواں مری کہانی کا


کوئی پتھر اچھال کر دیکھو
شور ہوگا تو ہوگا پانی کا


شور کرتا وجود فانی میں
ایک سناٹا لا مکانی کا


محل تھا ایک دو تھے شہزادے
ایک راجہ کا ایک رانی کا


ساحلوں ساحلوں گزر جائیں
کوئی موسم تو ہو روانی کا


بزم صورت گراں میں چرچا تھا
ایک تصویر رائیگانی کا


نیزہ نیزہ ابھر کے دیکھ لیا
ایک دھوکا تھا کامرانی کا


ساحلوں پر بچا نہیں کچھ بھی
بس نشاں رہ گیا ہے پانی کا