اس کا ہونا بھی نہ ہونے جیسا
اس کا ہونا بھی نہ ہونے جیسا
کیسا پانا کہ ہے کھونے جیسا
بانس کے پاؤں لگا رکھے ہیں
ویسے قد اس کا ہے بونے جیسا
اک عجب عالم بے خوابی ہے
جاگنے جیسا نہ سونے جیسا
نیند پریوں کی اڑانوں جیسی
خواب بچوں کے کھلونے جیسا
معتکف ہونے کو ڈھونڈوں گوشہ
حرم پاک کے کونے جیسا
کار دشوار کوئی یوں بھی نہ ہو
انگلیاں خوں میں ڈبونے جیسا
زندگی بھر کی کمائی ٹھہرا
ایک احساس کے کھونے جیسا