تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے

تیرے دروازے جو آیا ہوا ہے
وہ زمانے کا ستایا ہوا ہے


آج لگتا ہے قیامت کی طرح
آج اپنا بھی پرایا ہوا ہے


تیرا پیغام ادھورا سا لگا
ایسا لگتا ہے مٹایا ہوا ہے


ایسی رنگت کہیں دیکھی نہ سنی
کچھ تو میدے میں ملایا ہوا ہے


تیرے وحشی نے گلابی رت میں
آسماں سر پہ اٹھایا ہوا ہے


دیس پردیس بھٹکتا ہے سدا
جانے کیا سر میں سمایا ہوا ہے


دھڑکنیں تیز ہوئی جاتی ہیں
کوئی لگتا ہے کہ آیا ہوا ہے