ساتھ وہ آخر شب تک رہتا
ساتھ وہ آخر شب تک رہتا
چاند رہتا بھی تو کب تک رہتا
یا چلا آتا وہاں سے اٹھ کر
یا وہیں عرض طلب تک رہتا
ایسے محفل میں نہ ہوتے بدنام
مدعا لرزش لب تک رہتا
اس پہ کھل جاتے جنوں کے اسرار
وہ اگر شور و شغب تک رہتا
پیش قدمی کی دعائیں دیتا
اک نگہبان عقب تک رہتا
پہلی فرصت میں نکل آنا تھا
میں وہاں رہتا تو اب تک رہتا
اس سے آگے کا مجھے علم نہ تھا
کاش وہ نام و نسب تک رہتا
طشت از بام نہ ہوتا کاتبؔ
راز وہ مہر بلب تک رہتا