روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی
روز و شب مجھ میں سماتا ہے کوئی
نت نئے جلوے دکھاتا ہے کوئی
چین سے کب مجھے سونا ہے نصیب
وقت بے وقت بلاتا ہے کوئی
بند ہے سلسلۂ آمد و رفت
کوئی آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی
بارہا مجھ کو جلانے کے لئے
بارہا مجھ کو بجھاتا ہے کوئی
جاتے جاتے تو رلاتے ہیں سبھی
آتے آتے بھی رلاتا ہے کوئی
داخلے کے سبھی در بند ہوئے
یوں بھلا دیر سے آتا ہے کوئی