سلسلے فکر و فن کے تھے ہی نہیں
سلسلے فکر و فن کے تھے ہی نہیں
ہم تو اس انجمن کے تھے ہی نہیں
کون اپنا ہی گھر اجاڑتا ہے
باغباں وہ چمن کے تھے ہی نہیں
کیوں پلٹ کر ادھر نہیں دیکھا
کیا بلاوے وطن کے تھے ہی نہیں
مطمئن تھے درون شہر پناہ
ہم سپاہی تو رن کے تھے ہی نہیں
سب نوشتے تو ہم نے دیکھ لئے
وہ حوالے متن کے تھے ہی نہیں
ہائے وہ ربط باہمی کی فضا
فاصلے ما و من کے تھے ہی نہیں
اب کھلا ہم پہ وہ سبھی رشتے
تن کے تھے سارے من کے تھے ہی نہیں