اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں
اپنی پوشاک بدلنے کے لئے آئے ہیں
ہم تری آگ میں جلنے کے لئے آئے ہیں
کون کہتا ہے سنبھلنے کے لئے آئے ہیں
ہم تو سرکار مچلنے کے لئے آئے ہیں
ہم کہیں اور سے آئے ہیں یہاں پر ویسے
اور یاں سے بھی نکلنے کے لئے آئے ہیں
وادئ گل کا پتہ پوچھنے آئے ہیں یہاں
اور یہاں پھولنے پھلنے کے لئے آئے ہیں
رات بھر کے لئے مل جائے ٹھکانہ ہم کو
خواب ہیں آنکھ میں پلنے کے لئے آئے ہیں
آج کی رات الاؤ کے مقابل ہوں گے
آج کی رات پگھلنے کے لئے آئے ہیں
ہے خبر گرم کہ کچھ سرپھرے آبی دھارے
ریگزاروں میں ابلنے کے لئے آئے ہیں
پھر کسی یاد کے آنگن کے چمکتے جگنو
میری آنکھوں میں مچلنے کے لئے آئے ہیں
صبح دم ان کی ہے دہلیز پہ حاضر ہونا
رات کے رات نکلنے کے لئے آئے ہیں