ترا ساتھ پائیں کہاں یہ کھلے پر

ترا ساتھ پائیں کہاں یہ کھلے پر
ترے اور مرے درمیاں یہ کھلے پر


فلک زائیدہ چھاؤں مرنے لگی ہے
سمٹتا ہوا سائباں یہ کھلے پر


طلسموں کی ماری بھٹکتی نگاہیں
بھلا پھر سمٹتے کہاں یہ کھلے پر


مری آنکھ صحرا بکھرتے بتوں کا
دشاؤں کے نوحہ کناں یہ کھلے پر


میں برگ شکستہ ہوں دست ہوا پر
فقط میرا وہم و گماں یہ کھلے پر


مری منزلیں زیر آب آ چکی ہیں
لے اب نوچ لے آسماں یہ کھلے پر