غم کم ہیں زندگی میں ذرا اور پالئے
غم کم ہیں زندگی میں ذرا اور پالئے
جو مسئلے نہیں ہیں انہیں بھی اچھالیے
اک لغزش قدم بھی کبھی سر اڑا گئی
دستار چھوڑ دیجیے خود کو سنبھالئے
بس ہاتھ تیرا ہاتھ میں آ نے کی دیر تھی
سب مہر و ماہ و ارض و سما ہم نے پا لئے
راہی یہ سنگ میل نہیں سنگ راہ ہیں
بت بس گئے ہیں کعبۂ دل میں نکالیے
اب کے ہمیں اشارۂ انجم نہ تھا کوئی
کھینچے زمیں نے ہاتھ تو لنگر اٹھا لیے
سرسبز دشت خوف سے خاشاک ہو گیا
ہیں مشعلیں حضور میں ارماں نکالیے