اپنا چہرہ دکھا گئیں لہریں

اپنا چہرہ دکھا گئیں لہریں
بستیوں کو ڈرا گئیں لہریں


ریت پر رات زندگی لکھی
صبح آ کر مٹا گئیں لہریں


ان زمینوں کی کوکھ سے جنمے
آسمانوں کو کھا گئیں لہریں


جس سے روشن تھا دل کا ویرانہ
وہ دیا بھی بجھا گئیں لہریں


کوئی تھامے ہوئے تھا ڈور ادھر
اب کے سب کو بتا گئیں لہریں


میرا چہرہ تھا ریت کا چہرہ
ایک پل میں مٹا گئیں لہریں