بھول جانے کو ہے جہاں سارا (ردیف .. ت)
بھول جانے کو ہے جہاں سارا
یاد رکھنے کو اک خدا ہے بہت
ہے جو پیش نظر پرے اس سے
منظر اک اور دل ربا ہے بہت
گونجتی آہٹیں نہیں تھمتیں
میرے اندر کوئی رہا ہے بہت
گمرہی سے ہے اپنی ناواقف
راستوں کو وہ جانتا ہے بہت
میری دیوانگی جلائے چراغ
روشنی گم ہے اور ہوا ہے بہت
یہ عذابوں کا سلسلہ کیسا
زندگی ہی تو اک سزا ہے بہت