اندھی بستی میں اک عجوبہ ہوں
اندھی بستی میں اک عجوبہ ہوں
آنکھ رکھتا ہوں اور گونگا ہوں
دن تماشائی مجھ کو کیا جانے
میری راتوں سے پوچھ کیسا ہوں
رنگ دنیا بھی اک تماشا ہے
اپنے ہاتھوں میں اک کھلونا ہوں
میری مشعل سے رات پگھلی تھی
صبح تنکا سا میں ہی بہتا ہوں
کیا یہ دنیا ہی چاہ بابل ہے
آدمی ہوں یا میں فرشتہ ہوں
خود کو پانے کی کیا سبیل کروں
میں انہی راستوں میں کھویا ہوں