Mohammad Ali Taj

محمد علی تاج

  • 1926 - 1978

محمد علی تاج کی غزل

    بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت

    بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت غم زمانہ سے لیکن فرار کی صورت نظر تو آئے کہیں سے بہار کی صورت نکالیے تو کوئی اعتبار کی صورت کھلا ہوا ہے در میکدہ دلوں کی طرح مہک رہی ہے فضا زلف یار کی صورت ہزار مرحلۂ زیست سامنے آئے بدل بدل کے تمنائے یار کی صورت

    مزید پڑھیے

    دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں

    دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں پر کہیں بھی تو کس یقیں سے کہیں برف سی جم رہی ہے ہونٹوں پر کس کے رخسار آتشیں سے کہیں ہر جگہ ہے تو اس فسانے میں تو جہاں سے کہے وہیں سے کہیں ہم تو سمجھا کے ہار بیٹھے ہیں آپ ہی کچھ دل حزیں سے کہیں آنسوؤں کی کہانیاں اے تاجؔ کب تک اپنی ہی آستیں سے کہیں

    مزید پڑھیے

    ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے

    ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے بہار آ کے رہے گی بہار راہ میں ہے بڑھے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی یہ وہ مقام ہے جس کا شمار راہ میں ہے ہمارا کیا ہے دوانے ہیں کچھ بھی کر گزریں یقیں کرو کہ تمہارا وقار راہ میں ہے نہ پاؤں تھمتے ہیں اپنے نہ حوصلے دل کے سنا ہے جب سے کوئی خار زار راہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے

    نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے جو پورے ہو نہیں سکتے ان ارمانوں کا رونا ہے بڑی تہذیب سے اہل غم دل سر جھکائے ہیں نہ زنجیروں کا شکوہ ہے نہ زندانوں کا رونا ہے اگر تجھ کو یقیں آئے تو سب تیرا تصرف ہے نہ دیوانوں کا ہنسنا ہے نہ دیوانوں کا رونا ہے

    مزید پڑھیے

    اے چنگاری راکھ نہ بن

    اے چنگاری راکھ نہ بن پھونک دے میرا ہی دامن تجھ سے وفا کی امیدیں دیکھ مرا دیوانہ پن ہم دکھیوں سے ہنس کر مل کیا جوبن کیا مایا دھن مجھ میں اپنا عکس نہ دیکھ میں ہوں اک ٹوٹا درپن

    مزید پڑھیے

    چاک داماں و گریباں پہ ہنسی آتی ہے

    چاک داماں و گریباں پہ ہنسی آتی ہے کیسے انساں ہو کہ انساں پہ ہنسی آتی ہے تم کہ ہر منزل دشوار سے ہٹ جاتے ہو ہم کہ ہر منزل آساں پہ ہنسی آتی ہے یہ بنائے ہوئے رنگ اور یہ تراشے ہوئے پھول مجھ کو اس جشن بہاراں پہ ہنسی آتی ہے رات اک زلف پریشاں کے لیے روتا ہوں صبح ہر خواب پریشاں پہ ہنسی ...

    مزید پڑھیے

    چراغ راہ بنے شمع انجمن نہ رہے

    چراغ راہ بنے شمع انجمن نہ رہے خدا کرے کہ مرا فن بھی میرا فن نہ رہے دلوں کے پھول تبسم کے پھول پیار کے پھول کھلیں یہ پھول تو پھر برق کا چلن نہ رہے نگاہ بھر کے مجھے دیکھ جام بھر کے پلا مری جبیں پہ غم دہر کی شکن نہ رہے تمہارے قبضۂ قدرت میں مہر و ماہ سہی مگر یہ کیا کہ مرے پاس اک کرن نہ ...

    مزید پڑھیے

    آج دل سوچ رہا ہے جیسے

    آج دل سوچ رہا ہے جیسے مے ہر اک غم کی دوا ہے جیسے جاں ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں اک یہی شرط وفا ہے جیسے کہیں موتی کہیں تارے کہیں پھول دہر تیری ہی قبا ہے جیسے دشت غربت میں ترا نامۂ شوق ہاتھ میں پھول کھلا ہے جیسے اس طرح چپ ہیں ترا غم لے کر یہ بھی قسمت کا لکھا ہے جیسے

    مزید پڑھیے

    یاد گیسو و قد یار لیے پھرتے ہیں

    یاد گیسو و قد یار لیے پھرتے ہیں ہم کہیں ہوں رسن دار لیے پھرتے ہیں ہم ہیں وہ چاک گریباں جو زمانے کے لیے شوق پیراہن زر تار لیے پھرتے ہیں مدتیں ہو گئیں اس دامن رنگیں سے چھٹے آج تک دیدۂ خوں بار لیے پھرتے ہیں شرم اے زعم مسیحائی کہ اب بھی لاکھوں جسم بیمار و دل زار لیے پھرتے ہیں

    مزید پڑھیے

    وہی رہا دل غمگیں کسی سے کچھ نہ ہوا

    وہی رہا دل غمگیں کسی سے کچھ نہ ہوا ستم یہ ہے کہ تری دوستی سے کچھ نہ ہوا تمام نغمگی و شاعری سے کچھ نہ ہوا وہ رات ہے کہ مری روشنی سے کچھ نہ ہوا تری نگاہ کی جادوگری کو دیکھ لیا تری نگاہ کی جادوگری سے کچھ نہ ہوا چلو کہ آج ستاروں کی سیر کر آئیں کوئی یہ کہہ نہ سکے آدمی سے کچھ نہ ہوا

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2