دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں

دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں
پر کہیں بھی تو کس یقیں سے کہیں


برف سی جم رہی ہے ہونٹوں پر
کس کے رخسار آتشیں سے کہیں


ہر جگہ ہے تو اس فسانے میں
تو جہاں سے کہے وہیں سے کہیں


ہم تو سمجھا کے ہار بیٹھے ہیں
آپ ہی کچھ دل حزیں سے کہیں


آنسوؤں کی کہانیاں اے تاجؔ
کب تک اپنی ہی آستیں سے کہیں