نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے

نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے
جو پورے ہو نہیں سکتے ان ارمانوں کا رونا ہے


بڑی تہذیب سے اہل غم دل سر جھکائے ہیں
نہ زنجیروں کا شکوہ ہے نہ زندانوں کا رونا ہے


اگر تجھ کو یقیں آئے تو سب تیرا تصرف ہے
نہ دیوانوں کا ہنسنا ہے نہ دیوانوں کا رونا ہے