بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت
بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت غم زمانہ سے لیکن فرار کی صورت نظر تو آئے کہیں سے بہار کی صورت نکالیے تو کوئی اعتبار کی صورت کھلا ہوا ہے در میکدہ دلوں کی طرح مہک رہی ہے فضا زلف یار کی صورت ہزار مرحلۂ زیست سامنے آئے بدل بدل کے تمنائے یار کی صورت