Mohammad Ali Taj

محمد علی تاج

  • 1926 - 1978

محمد علی تاج کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت

    بہت دنوں سے نظر میں ہے یار کی صورت غم زمانہ سے لیکن فرار کی صورت نظر تو آئے کہیں سے بہار کی صورت نکالیے تو کوئی اعتبار کی صورت کھلا ہوا ہے در میکدہ دلوں کی طرح مہک رہی ہے فضا زلف یار کی صورت ہزار مرحلۂ زیست سامنے آئے بدل بدل کے تمنائے یار کی صورت

    مزید پڑھیے

    دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں

    دل کی باتیں کسی حسیں سے کہیں پر کہیں بھی تو کس یقیں سے کہیں برف سی جم رہی ہے ہونٹوں پر کس کے رخسار آتشیں سے کہیں ہر جگہ ہے تو اس فسانے میں تو جہاں سے کہے وہیں سے کہیں ہم تو سمجھا کے ہار بیٹھے ہیں آپ ہی کچھ دل حزیں سے کہیں آنسوؤں کی کہانیاں اے تاجؔ کب تک اپنی ہی آستیں سے کہیں

    مزید پڑھیے

    ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے

    ابھی خیال و نظر کا غبار راہ میں ہے بہار آ کے رہے گی بہار راہ میں ہے بڑھے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی یہ وہ مقام ہے جس کا شمار راہ میں ہے ہمارا کیا ہے دوانے ہیں کچھ بھی کر گزریں یقیں کرو کہ تمہارا وقار راہ میں ہے نہ پاؤں تھمتے ہیں اپنے نہ حوصلے دل کے سنا ہے جب سے کوئی خار زار راہ ...

    مزید پڑھیے

    نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے

    نہ اپنوں سے کوئی شکوہ نہ بیگانوں کا رونا ہے جو پورے ہو نہیں سکتے ان ارمانوں کا رونا ہے بڑی تہذیب سے اہل غم دل سر جھکائے ہیں نہ زنجیروں کا شکوہ ہے نہ زندانوں کا رونا ہے اگر تجھ کو یقیں آئے تو سب تیرا تصرف ہے نہ دیوانوں کا ہنسنا ہے نہ دیوانوں کا رونا ہے

    مزید پڑھیے

    اے چنگاری راکھ نہ بن

    اے چنگاری راکھ نہ بن پھونک دے میرا ہی دامن تجھ سے وفا کی امیدیں دیکھ مرا دیوانہ پن ہم دکھیوں سے ہنس کر مل کیا جوبن کیا مایا دھن مجھ میں اپنا عکس نہ دیکھ میں ہوں اک ٹوٹا درپن

    مزید پڑھیے

تمام