آج دل سوچ رہا ہے جیسے
آج دل سوچ رہا ہے جیسے
مے ہر اک غم کی دوا ہے جیسے
جاں ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں
اک یہی شرط وفا ہے جیسے
کہیں موتی کہیں تارے کہیں پھول
دہر تیری ہی قبا ہے جیسے
دشت غربت میں ترا نامۂ شوق
ہاتھ میں پھول کھلا ہے جیسے
اس طرح چپ ہیں ترا غم لے کر
یہ بھی قسمت کا لکھا ہے جیسے